حضرت شیخ الحفاظ علیہ الرحمہ

   

حافظ شیخ محمد منہاج محی الدین نعمانی
شیخ الحفاظ حضرت علامہ ڈاکٹر حافظ احمد محی الدین قادری شرفی رحمۃ اللہ علیہ کی ہستی ایک علمی و روحانی خانوادہ کی چشم‌ و چراغ ہستی گزری ہے، جو سرزمین حیدرآباد سے قرانی تعلیمات کو گھر گھر تک پہنچانے کی محرک اور تحفیظ القرآن کے میدان میں ناقابل فراموش خدمات انجام دینے والی شخصیت سے جانی جاتی ہیں۔ آپؒ کی ولادت ۱۱ ؍ شعبان المعظم۱۳۷۱؁ ھ مطابق ۶ ؍ مئی ۱۹۵۲؁ء بروز منگل ہوئی۔آپ کے والد گرامی کا نام حضرت شیخ جعفر قادری شرفی ؒہے، جن کا تعلق ابتداء ہی سے شہر حیدرآباد کی ایک روحانی خانقاہ شرفی چمن واقع مستعد پورہ سے تھا۔اور آپؒ نے اپنے فرزند کو حضرت تاج العرفاء کی ارادت میں شامل فرمادیا تھا۔شیخ الحفاظ کو حفظ کی تعلیم کیلئے مدرسہ حفاظ انجمن احیاء دین قاضی پورہ حیدرآباد میں شریک کروایا گیا، وہاں آپ نے حضرت عبداللہ بن سند بارواص اور حافظ محمد احمد قادری علیہما الرحمہ کے پاس تکمیل حفظ کیا ، ابھی چند ہی پارے حفظ کئے تھے کہ آپؒ کو پہلی مرتبہ نماز تراویح میں قرآن مجید کی تلاوت کی سعادت خانقاہ شرفی چمن کی مسجد میں حاصل ہوئی ، گویا اسی وقت آپ نے اپنی قرآنی خدمات کا آغاز بھی کیا تھا، اور جب آپ نے نماز تراویح میں تلاوت کی تھی اس موقع پر سامعین میں خانوادہ شرفی چمن کے بزرگوں نے اور بارگاہ کے سجادہ نشین تاج العرفاء حضرت سید سیف الدین قادری شرفی علیہ الرحمہ نے اپنی دعاؤں اور ہمت افزائی سے نوازا تھا۔زمانہ قدیم میں حضرت محدث دکن ابو الحسنات سید عبد اللہ شاہ نقشبندی مجددی قادری علیہ الرحمہ کی بارگاہ واقع نقشبندی چمن کی مسجد میں بھی آپؒ نے نماز تراویح پڑھائی اور ۱۹۸۰؁ ء سے موتی مسجد نیاپل دلی دروازہ میں تین پارے تراویح کا دیرینہ تسلسل ۲۰۱۸ ؁ء تک جاری رہا۔تکمیل حفظ کے بعد جامعہ نظامیہ سے فراغت حاصل کی اور ۱۳۹۷؁ھ م ۱۹۷۸؁ء میں کامل الحدیث کئے۔اس کے علاوہ آپؒ نے عصری تعلیم کے طور پر جامعہ عثمانیہ اورینٹل کالج لطیفیہ عربیہ کالج سے ۱۹۷۵؁ء میں بی او یل عثمانیہ اور پھر اس کے بعد ہی اے کے یم کالج سے یم او یل عثمانیہ بھی کامیاب کر لیا۔ بعد ازاں درس و تدریس میں مصروف ہوگئے ، ونیز سیفل یونیورسٹی سے علامہ شیخ ابن قیم کی حیات و خدمات پر ۱۹۹۲؁ء یم فل کیا اور اس کے فوری بعد پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا اور تین کی سال کی میعاد کے اندر ہی بیسیویں صدی میں حیدرآباد میں عربی زبان کے ارتقا پر اپنا علمی تحقیقی مقالہ پیش کیا اور۱۹۹۵؁ ء میں پی ایچ ڈی ایوارڈ کے مستحق قرار پائے۔
آپؒ ۱۹۷۵؁ء میں ازدواجی زندگی سے منسلک ہوئے ۔ آپؒ ایک بہترین استاد و مربی، مہتمم و ایڈمنسٹریٹر واعظ و مقرر عربی زبان کے ماہر و مدرس اور علومیہ اسلامیہ کے ناشر و مروج تھے۔ آپؒ سرزمین دکن کی ایک عظیم علمی و روحانی ہستی کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں، بطور خاص تحفیظ القرآن الکریم کی خدمات میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔آپ کی عبقری شخصیت کا اندازہ آپ کی ہمہ جہت علمی خدمات سے ہوتا ہے۔آپؒ نے ہزاروں شاگرد چھوڑے ہیں ، اور اپنے تربیت یافتہ مریدین جن میں سبھی حفاظ و علماء کرام ہیں خلافت سے سرفراز فرمایا ہے جو شہر و ریاست ، ملک و بیرون ، دنیا کے مختلف گوشوں میں علم و فضل کا فیض جاری رکھے ہوئے ہیں۔
آپؒ کا وصال بعمر ۷۵ سال ، بروز پیر، ۶؍  ذوالقعدہ ۱۴۴۶؁ ھ مطابق ۵؍ مئی ۲۰۲۵؁ء ہوا ۔ اور علم کا یہ آفتاب ہزاروں طالب علموں و مریدین کو سوگوار چھوڑ گیا ۔