حکومت مخالف مظاہرے جاری، ایران اٹلی پر برہم

   

تہران : حکومت مخالف مظاہروں کے تناظر میں ایران نے اطالوی سفیر کو طلب کر کے اٹلی کے مداخلانہ رویے کی شکایت کی ہے۔ ایران مغربی دنیا پر ان مظاہروں کو ہوا دینے کا الزام عائد کرتا ہے۔ ایران میں ستمبر میں ایک نوجوان لڑکی مہسا امینی کی اخلاقی پولیس کی حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے جمعرات کی شب اطالوی سفیر کو طلب کیا اور اطالوی پالیسیوں پر برہمی کا اظہار کیا۔ اس سے ایک روز قبل روم حکومت نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے ایران میں مظاہرین کے خلاف شدید کریک ڈاؤن کی مذمت کی تھی۔ ایران میں درجنوں مظاہرین کو سزائے موت ملنے کا خطرہ۔ ایران نے اسٹار فٹبالر کے اہل خانہ کو بیرون ملک جانے سے روک دیا ایران میں ان مظاہروں کے تناظر میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تہران حکومت کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں سکیورٹی فورسز کے ارکان بھی شامل ہیں جب کہ ان مظاہروں میں شامل ہونے والے ہزاروں افراد بھی حکومتی حراست میں ہیں۔