حیدرآباد، علاج و معالجہ کے بڑے مرکز میں تبدیل

   

شہر میں علاج کے اخراجات دہلی یا ممبئی کے مقابل 30 تا 35 فیصد کم

حیدرآباد : دہلی، ممبئی اور ہندوستان کے دوسرے بڑے شہروں کے ساتھ حیدرآباد بیرونی ممالک کے لوگوں کے لئے ایک بڑا علاج و معالجہ کا مرکز بن گیا ہے جہاں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں مریض علاج کیلئے آرہے ہیں۔ اگرچیکہ کوروناوائرس وبا کے باعث بیرونی ممالک کے مریضوں کی آمد متاثر ہوئی تاہم کانٹیننٹل ہاسپٹل کے سی ای او ریاض خان نے کہا کہ عام حالات میں ایک سال کے دوران تین لاکھ بیرونی مریض شہر کو آیا کرتے تھے۔ ’’ہمارے یہاں ان مریضوں کی ایک اچھی تعداد آیا کرتی تھی جو تمام قسم کے علاج کیلئے آتے تھے جیسے آنکولوجی، آرتھوپیڈکس، کارڈیالوجی، اسپائن سرجری اور دیگر۔ مریض ویسٹ افریقہ اور مشرق وسطیٰ ممالک جیسے یمن، عمان، سعودی عرب کے بعض حصوں سے اور بنگلہ دیش سے آیا کرتے تھے۔ فینانشیل ڈسٹرکٹ میں واقع 750 بستر کے جے سی آئی اکریڈیٹیڈ ہاسپٹل کو منج کرنے والے اس ڈاکٹر کے مطابق بیرونی ممالک کے مریضوں کے علاج و معالجہ کیلئے موتیوں کا یہ شہر ایک اہم اور بڑا مرکز بن جانے کی کئی وجوہات ہیں۔ جیسے معیاری سرویس، قابل گنجائش علاج، راست فلائیٹس، کلچر، کھانا اور سرویس حاصل کرنے میں آسانی۔ ہندوستان میں علاج کے اخراجات سنگاپور یا تھائی لینڈ کے مقابل اب بھی کم ہیں جو اس کی شہرت کیلئے ایک اہم وجہ ہے۔ ہندوستان کے دیگر شہروں کے مقابل حیدرآباد میں دہلی اور ممبئی کے مقابل علاج کے اخراجات 30 تا 35 فیصد کم ہیں۔ خان نے کہا کہ علاج کیلئے ہونے والے اخراجات کے علاوہ حیدرآباد آنے میں آسانی، ہاسپٹلس کی دستیابی، مقامی کھانے اور کلچر بھی اس میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ شہر کے تعلیمی اداروں اور یونیورسٹیز جیسے یونیورسٹی آف حیدرآباد، عثمانیہ یونیورسٹی اور دوسرے اداروں میں ان ممالک سے بیرونی طلبہ کی قابل لحاط تعداد تعلیم حاصل کرتی ہے اور یہ طلبہ ان کے ممالک میں حیدرآباد کے میڈیکل انفراسٹرکچر کے بارے میں لوگوں کو بتاتے ہیں۔