حیدرآباد میں (BLOs) 450 ڈیوٹی سے غائب!

,

   

ووٹر لسٹ کی نظرثانی (SIR) کا عمل سست روی کا شکار، عوام میں شدید ناراضگی
حیدرآباد ۔ 16 مئی (سیاست نیوز) شہر حیدرآباد میں ووٹر لسٹوں کی خصوصی جامع نظرثانی (SIR) کا عمل شدید سست روی کا شکار ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے جاری اس ووٹر سروے میں میاپنگ کا عمل بھی توقع کے مطابق نہیں ہوا ہے۔ اس تاخیر کی سب سے بڑی وجہ نچلے درجہ کے عملے سے لیکر اعلیٰ عہدیداروں تک کی جانے والی اپنے فرائض سے سنگین لاپرواہی اور غفلت بتائی جاتی ہے۔ باوثوق ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ شہر کے تقریباً 450 بوتھ لیول آفیسرس (BLOs) اور دیگر متعلقہ اہلکار اپنی روزانہ کی انتخابی ڈیوٹیوں سے مسلسل غیرحاضر پائے گئے ہیں۔ مرکزی الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق پورے ملک میں “SIR” مہم چلائی جارہی ہے۔ کمشنر جی ایچ ایم سی آر وی کرنن نے حیدرآباد میں بہت پہلے ابتدائی سروے ووٹر میاپنگ کا عمل شروع کرادیا تھا تاکہ ووٹر لسٹ میں موجود رائے دہندگان کی تفصیلات کی تصدیق اور ان کی درست میاپنگ کی جاسکے لیکن افسوسناک بات یہ ہیکہ شہر کے جملہ 46 لاکھ ووٹرس میں سے 50 فیصد سے کچھ زیادہ ووٹرس کی میاپنگ ہوسکی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ (BLOs) اسسٹنٹ ووٹر رجسٹریشن آفیسرس (AEROs) اور الیکٹورل رجسٹریشن آفیسرس (EROs) کی جانب سے اس اہم ترین مہم کو نظرانداز کرنا ہے۔ حیدرآباد کے کئی اسمبلی حلقوں میں بی ایل اوز کی شدید قلت کا سامنا ہے یا جنہیں ذمہ داریاں دی گئی ہیں وہ اپنے متعلقہ مقامات کو گئے نہیں اور فون پر بھی تسلی بخش جواب نہیں دے رہے ہیں جس سے شہریوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ ماضی میں ڈرائیورس، جاروب کش کو (BLOs) بنادینے کی شکایات عام ہونے کے بعد تقریباً 100 بی ایل اوز کو ذمہ داریوں سے ہٹادیا گیا تھا۔ اس برطرفی کے بعد عملے کی قلت مزید سنگین ہوگئی ہے اور اب ہر اسمبلی حلقہ میں اوسطاً 20 سے 30 (BLOs) سروے کے کام سے مکمل دوری اختیار کئے ہوئے ہیں۔2/A/b