کولکاتا۔ 15 مئی (ایجنسیز) مغربی بنگال کے کولکاتا میں نمازِ جمعہ کے دوران تصادم کی خبروں نے ہلچل پیدا کر دی ہے۔مسلم طبقہ کا تصادم کسی دوسرے مذہبی طبقہ سے نہیں ہوا ہے، بلکہ تصادم مسلمانوں کے ہی 2 گروپ کے درمیان ہوا ہے، وہ بھی نماز کی ادائیگی کو لیکر۔ جمعہ کے روز اس وقت کشیدگی والی حالت پیدا ہو گئی جب ایک مسجد کی انتظامیہ نے نمازیوں کو دوسری مسجد میں جا کر نماز پڑھنے کیلئے کہا۔ معاملہ بھیڑ بھاڑ والے علاقہ راجہ بازار کا ہے۔ وہاں جمعہ کی نماز کے دوران بڑی تعداد میں نمازی جمعہ ہو گئے تھے۔ حالات کچھ دیر کے لیے کشیدہ ہو گئے، حالانکہ بعد میں پولیس اور مقامی لوگوں کی مدد سے حالات پر قابو پا لیا گیا۔ اس تصادم کے بعد علاقے میں پولیس فورس کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔ پورا علاقہ ایک طرح سے پولیس چھاؤنی میں تبدیل ہو گیا ہے اور حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔موصولہ خبروں میں بتایا جا رہا ہے کہ علاقہ کی ایک مسجد میں نمازیوں کی تعداد بہت زیادہ ہو گئی تھی۔ مسجد میں جگہ کم پڑنے لگی تو کچھ لوگ قریب کی دوسری مسجد کی طرف چلے گئے تاکہ نمازِ جمعہ ادا کر سکیں۔ جب دوسری مسجد کی انتظامیہ سے جڑے لوگوں کو یہ خبر ملی تو انھوں نے نمازیوں کو پہلی مسجد میں واپس جانے کے لیے کہا۔ اسی بات پر مسجد انتظامیہ اور نمازیوں میں بحث شروع ہو گئی۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ سڑک پر بھی نماز ادا کرنے لگے تھے، جس سے حالات کشیدہ ہو گئے۔ اسی دوران پولیس موقع پر پہنچی اور لوگوں سے سڑک پر نماز نہ پڑھنے کی اپیل کی۔ پولیس کی مداخلت کے بعد ماحول مزید گرم ہو گیا اور کچھ دیر کے لیے افرا تفری جیسی حالت بن گئی۔ وہاں موجود لوگوں میں دھکا مکی اور زوردار بحث بھی دیکھنے کو ملی۔ حالانکہ پولیس نے فوراً حالات کو سنبھال لیا اور دونوں فریقوں کو خاموش کرایا۔