نوجوان نسل سچ کو پہچان چکی‘ کانگریس قائد کی طالبات سے بات چیت
نئی دہلی۔26؍اپریل ( ایجنسیز )لوک سبھا میں قائد اپوزیشن راہول گاندھی نے دہلی یونیورسٹی سے وابستہ گارگی کالج کی طالبات سے ایک طویل اور کھلی گفتگو میں نوجوان نسل، خواتین کے کردار، عدم مساوات اور موجودہ سیاسی ماحول جیسے اہم موضوعات پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس ملاقات کے دوران انہوں نے واضح انداز میں کہا کہ آج کا نوجوان ہندوستان حقیقت کو پہچان چکا ہے اور اب روایتی بیانیے زیادہ دیر تک اثرانداز نہیں ہو سکتے۔گفتگو کا آغاز ایک غیر رسمی ماحول میں ہوا جہاں راہول گاندھی نے طالبات سے ان کے تجربات اور مسائل کے بارے میں سوالات کیے۔ اس دوران کچھ طالبات نے کالج میں پیش آئے ایک تنازعہ کا ذکر کیا جس میں بی جے پی کی طلبہ تنظیم اے بی وی پی کے افراد نے کالج میں داخل ہو کر ہنگامہ آرائی کی۔ طالبات نے بتایا کہ اگرچہ صورتحال اچانک اور پریشان کن تھی لیکن انہوں نے متحد ہو کر اس کا مقابلہ کیا اور خوفزدہ ہونے کے بجائے حالات کو سنبھالا۔راہول گاندھی نے اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں گھبراہٹ ایک فطری ردعمل ہے مگر اہم بات یہ ہے کہ لوگ خود کو مضبوط بنائیں اور اجتماعی طاقت کا استعمال کریں۔ انہوں نے طالبات کے حوصلے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس بات کی علامت ہے کہ نوجوان نسل نہ صرف باخبر ہے بلکہ مشکل حالات میں بھی کھڑی ہو سکتی ہے۔ راہول گاندھی نے واضح کیا کہ ہندوستان کی ترقی خواتین کی شمولیت کے بغیر ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر خواتین کو بااختیار بنانے کے زیادہ حامی ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جتنا زیادہ خواتین کو مواقع ملیں گے ملک اتنا ہی مضبوط ہوگا۔ منی پور کے تنازعہ پر سوال کے جواب میں راہول گاندھی نے کہا کہ تقسیم کی سیاست ہمیشہ تنازعات کو جنم دیتی ہے۔تعلیمی نظام پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے تعلیمی نصاب میں کئی اہم طبقات کی تاریخ اور تجربات کو نظر انداز کیا گیا ہے جس کی وجہ سے ایک متوازن سماجی شعور پیدا نہیں ہو پاتا۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں تعلیمی اصلاحات ناگزیر ہوں گی تاکہ ایک جامع اور منصفانہ نظام قائم کیا جا سکے۔گفتگو کے اختتام پر راہل گاندھی نے طالبات کو سیاست میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دی اور کہا کہ اگر وہ چاہیں تو انہیں سیاست کی عملی تربیت کے مواقع فراہم کیے جاسکتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ملک کا مستقبل نوجوانوں، خصوصاً خواتین کے ہاتھ میں ہے اور ان کی شرکت کے بغیر کوئی بھی جمہوری نظام مکمل نہیں ہو سکتا۔H/A