خواتین ریزرویشن کے نام پر مودی مگرمچھ کے آنسو بہارہے ہیں: کانگریس

   

نئی دہلی، 19 اپریل (یو این آئی) کانگریس نے کہا ہے کہ بی جے پی ہمیشہ خواتین کو ریزرویشن دینے کے خلاف رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس بار اس نے خاتون کے ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی (ڈی لیمیٹیشن) لانے کی سازش کی، جس کی وجہ سے پارلیمنٹ میں پیش کی گئی آئینی ترمیمی بل گر گیا اور بی جے پی کو منھ کی کھانی پڑی۔پارٹی نے کہا کہ بی جے پی شروع سے ہی خواتین کو ریزرویشن نہیں دینا چاہتی ہے ۔ یہ ہمیشہ خواتین کے ریزرویشن کے خلاف رہی ہے اور یہی وجہ تھی کہ جب سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی 1990 میں خواتین کو ریزرویشن دینے کے لیے آئینی ترمیمی بل لائے تھے ، تو بی جے پی نے اس کی مخالفت کی تھی، جس کی وجہ سے وہ بل پارلیمنٹ میں منظور نہیں ہو سکا تھا۔ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے اتوار کو یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس میں کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی ڈرے ہوئے ہیں، اس لیے انہوں نے ملک کے نام ہفتہ کو 29 منٹ کے خطاب میں 58 بار، یعنی تقریباً ہر 30 سیکنڈ میں کانگریس کا نام لیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسٹر مودی خاتون ریزرویشن کی آڑ میں حد بندی کی اپنی مبینہ سازش کے ناکام ہونے کی وجہ سے ملک کے نام خطاب کے دوران مگرمچھ کے آنسو بہا رہے تھے ۔انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کو آئینی ترمیمی بل گرنے پر دکھی ہونے کے بجائے 543 لوک سبھا نشستوں کی بنیاد پر خواتین کے لیے 33 فیصد ریزرویشن کا انتظام کرنا چاہیے اور کانگریس اس انتظام کی پوری طرح حمایت کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ 543 نشستوں میں سے 181 نشستیں خواتین کو دے دیجیے اور اس میں رکاوٹ مت بنیے ۔ کانگریس ترجمان نے وزیر اعظم پر خواتین کے تئیں غیر حساس رویہ اپنانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ملک میں جہاں بھی خواتین کے ساتھ مظالم ہوتے ہیں، وہاں مسٹر مودی کچھ نہیں بولتے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مسٹر مودی نے کانگریس کی سرکردہ لیڈر سونیا گاندھی کے لیے ‘کانگریس کی بیوہ’ جیسے الفاظ کا استعمال کر کے خواتین کی توہین کی ہے ۔