کیا ایک بار پھر مسلمانوں کے کان خوش کئے جائیں گے ؟
حیدرآباد۔9۔اپریل (سیاست نیوز) چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ 12 اپریل کو دعوت افطار سے قبل انیس الغرباء یتیم خانہ کی نئی عمارت کا افتتاح انجام دے سکتے ہیں اور افتتاحی تقریب کے بعد وہ ایل بی اسٹیڈیم پہنچیں گے جہاں امکان ہے کہ وہ مسلمانوں کیلئے ’مسلم بندھو‘ اسکیم کا اعلان کرسکتے ہیں ۔ اطلاعات کے مطابق اقلیتوں میں حکومت کے متعلق ناراضگی کو دور کرنے چیف منسٹر دعوت افطار کے موقع پر دلتوں کیلئے اسکیم ’ دلت بندھو‘ کے طرز پر مسلم بندھو یا اقلیت بندھو اسکیم کا اعلان کرنے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں لیکن خود بھارت راشٹر سمیتی قائدین بالخصوص اقلیتی قائدین کا کہناہے کہ اب ریاست میں مسلمانوں کو چیف منسٹر کے سی آر کے اعلانات پر اعتماد نہیں رہا کیونکہ تشکیل تلنگانہ سے قبل سے 12فیصد تحفظات کے علاوہ ایوان اسمبلی میں کئے گئے وعدوں پر اب تک عمل نہیں ہوا تو مسلم بندھو کے اعلان پر کس طرح سے مسلمان بھروسہ کرسکتے ہیں!تشکیل تلنگانہ سے پارٹی میں سرگرم قائدین کا کہناہے کہ تلنگانہ راشٹرسمیتی کے قیام سے ہی کے سی آر نے مسلمانوں کو قریب رکھتے ہوئے ان سے متعدد وعدے کئے ا ورانہیں یقین دہانی کروائی کہ تلنگانہ کی تشکیل مسلمانوں کے ساتھ جاری ناانصافیوں کے خاتمہ کا موجب بنے گی لیکن تشکیل تلنگانہ کے بعد مسلمانوں سے وعدوں کو ہی نہیں بلکہ خود مسلمانوں کو فراموش کردیا گیا۔ چیف منسٹر نے ایوان اسمبلی میں مکہ مسجد و شاہی مسجد کے عملہ کی خدمات کو باقاعدہ اور مستقل بنانے کا اعلان کیا تھا اور اس کو 5سال گذرچکے ہیں‘ اسی طرح اجمیرشریف میں رباط کی تعمیر‘ اسلامک کلچرل سنٹر کی تعمیر‘ صیانت اوقاف کیلئے کمشنریٹ کی منظوری ‘ مسلمانوں کیلئے بجٹ میں ذیلی منصوبہ اور کئی اعلانات ہیں جو چیف منسٹر کے سی آر کی جانب سے کئے گئے لیکن ان پر عمل کے معاملہ میں اب تک حکام اور حکومت دونوں نظرانداز کی پالیسی اختیارکئے ہوئے ہیں اب جبکہ انتخابات قریب ہیں اور سیکریٹریٹ کی مساجد ‘ مسجد یکخانہ ‘ وقف جائیدادوں کے مقدمات کے علاوہ میدک میں قدیر خان کی پولیس حراست میں موت‘ ٹمریز جونیئر کالج میں طالبہ کے ماں بننے کے واقعہ اور محکمہ اقلیتی بہبود کو بجٹ کی عدم اجرائی کے سبب ریاست کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں میں ناراضگی اور برہمی کو دور کرنے چیف منسٹر انیس الغرباء کی عمارت کا عجلت میں افتتاح کرنے اور مسلمانوں کیلئے ’مسلم بندھو‘ اسکیم کا اعلان کرنے کی منصوبہ رکھتے ہیں ۔بتایا جاتا ہے کہ حکومت کی دعوت افطار کیلئے اب سرکردہ شخصیات کے نام پر ملت کا درد رکھنے والوں اور حکومت سے سوال کرنے والوں کو مدعو نہ کرنے کی خفیہ ایجنسیوں سے سفارش کی گئی ہے کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ اگر ملت کے مسائل پر آواز اٹھانے والوں کو دعوت افطار میں مدعو کیا جاتا ہے تو وہ سیکریٹریٹ کی مساجد‘ مکہ مسجد و شاہی مسجد کے ملازمین کے مسائل ‘ مسلمانوں کیلئے بجٹ میں ذیلی منصوبہ ‘ وقف کمشنریٹ کے متعلق سوال کرسکتے ہیں جو بدنظمی اور چیف منسٹر کی ناراضگی کا سبب بن سکتا ہے ۔بی آر ایس سے ریاست میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ عیسائی اقلیت بھی ناراض ہے کیونکہ ان میں بھی یہ احساس پیدا ہوچکا ہے کہ کے سی آر حکومت کے اقلیتوں سے ہمدردی کے دعوے محض زبانی ہیں جس کی مثال گذشتہ 9برسوں کے دوران کرسچن بھون کی تعمیر کیلئے 4مقامات کی تبدیلی اور سنگ بنیاد تقاریب کا انعقاد ہے لیکن کسی ایک مقام پر بھی تعمیر مکمل نہیں ہوپائی ہے ۔عیسائی اقلیت کے ذمہ داروں کا کہنا ہے کہ کے سی آر حکومت کرسمس ڈنر اور کرسمس گفٹ کے نام پر عیسائی برادری کا استحصال کر رہی ہے اور افطار ڈنر اور رمضان گفٹ کے نام پر مسلمانو ںکو گمراہ کیا جا رہاہے اور اب جبکہ انتخابات قریب ہیں تو کرسمس سے قبل اپل کے قریب کرسچن بھون کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور اب رمضان میں مسلمانوں کی نفسیات سے کھلواڑ کیلئے انیس الغرباء کی عمارت کے افتتاح اور مسلم بندھو یا اقلیت بندھو کے اعلان کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے ۔اضلاع میں بی آر ایس مسلم قائدین کو جس صورتحال کا سامنا ہے اس کا وہ برملا اظہار کرنے سے بھی قاصر ہیںکیونکہ پارٹی میں ان کی سنوائی کیلئے کوئی تیار نہیں اور جن قائدین کو سرکردہ عہدوں پر فائز کیا گیا ہے وہ اپنی کرسی کی حفاظت کی کوشش کر رہے ہیں انہیں اس بات کا احساس تک نہیں کہ ریاست کے مسلمانوں میں ناراضگی پارٹی سے مسلم ووٹرس کو دور کرنے کا سبب بن چکی ہے اور مسلمان دوبارہ بی آر ایس پر اعتماد کرنے آمادہ نہیں ہیں اور نہ ہی اب انہیں بی جے پی سے خوفزدہ کرکے گمراہ کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔م