مذہب کے نام پر نفرت نہ پھیلائیں ، پولیس سائبرآباد کی وضاحت
حیدرآباد ۔9ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حیدرآباد کے قریب گذشتہ ماہ ایک خاتون ویٹرنری ڈاکٹر دیشا ( نام تبدیل ) کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل سے متعلق کیس میں چاروں ملزمین کے تبدیل شدہ نام مسلمانوں کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئے اور اس کی خبر گذشتہ چند دن سے قومی سطح پر خبروں میں گشت کررہی تھیںجس کے نتیجہ میں سائبرآباد پولیس کو مداخلت کرتے ہوئے ناموں کے بارے میں وضاحت کرنا پڑا ۔سوشل میڈیا پر وائرل خبروں میں ملزمین کے نام محمد پاشاہ ، محمد اقبال ، محمد رحیم اور محمد اکرم بتائے گئے تھے جو سراسر غلط ہے ۔ سائبرآباد پولیس نے سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے صحیح ناموں کا انکشاف کیا اور کہاکہ چار ملزمین کے نام محمد عارف ، جالی شیوا ، جلو نوین ، چنتہ کنٹہ چنا کیشولو ہے ۔ فیس بک اور ٹوئیٹر کے استعمال کنندگان نے مسلم ناموں کا سہارا لیتے ہوئے مسلم برادری کے خلاف آہانت آمیز اور نازیبا تبصروں کا آغاز کردیا تھا لیکن سائبرآباد پولیس نے اپنے ٹوئیٹ کے ذریعہ توثیق کی کہ تمام ملزمین کا صرف ایک ہی مذہب سے تعلق نہیں ہے ، ان میں صرف ایک ملزم مسلم ہے مابقی تین ملزمین کا تعلق ہندو دھرم سے ہے ۔ سائبرآباد پولیس نے عوام پر زور دیا کہ وہ اس جرم کو مذہبی رنگ نہ دیں اور خبردار کیا کہ افواہیں پھیلانا ایک مستوجب سزا جرم ہے ۔