نئی دہلی: سپریم کورٹ نے بہار حکومت سے کہا کہ وہ ذات برادری کے سروے کے ڈیٹا کو عوامی ڈومین میں ڈالے۔ تاکہ اگر کوئی اس سے اخذ کردہ نتیجے کو چیلنج کرنا چاہے تو اسے چیلنج کر سکے۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ بہار ذات کے سروے کا ڈیٹا عوام کو دستیاب نہیں کرایا جا رہا ہے جس سے کئی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔عدالت نے کہا کہ یہ ڈیٹا ہر کسی کے لیے قابل رسائی ہونا چاہیے۔ سپریم کورٹ نے ذات پات سروے کو لے کر بہار حکومت کو راحت دی ہے۔ عدالت نے کہا ہے کہ حکومت سروے کی بنیاد پر آگے بڑھ سکتی ہے۔ سپریم کورٹ نے فی الحال عبوری روک لگانے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم، عدالت نے بہار حکومت کے ذریعہ عوامی ڈومین میں ڈالے گئے ڈیٹا کی تقسیم کی حد پر سوالات اٹھائے ہیں۔سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ کچھ معاملات پر فیصلہ کرے گی، جیسے پٹنہ ہائی کورٹ کے فیصلے کی درستگی اور مردم شماری کی اجازت دینے والے ڈیٹا کو کس حد تک پبلک ڈومین میں رکھا جا سکتا ہے۔بہار میں ذات کے سروے پر سپریم کورٹ میں اگلی سماعت 29 جنوری کے بعد ہوگی۔درخواست گزار کی جانب سے پیش ہونے والے وکیل نے سپریم کورٹ کو بتایا کہ سروے کے اعداد و شمار شائع ہو چکے ہیں، اس کی بنیاد پر ریزرویشن 50 سے بڑھا کر تقریباً 70 فیصد کر دی گئی ہے۔
اس کو پٹنہ ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل نے عبوری ریلیف کے لیے کیس کی جلد سماعت کی درخواست کی، تاہم عدالت نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کیس کی سماعت 29 جنوری سے شروع ہونے والے ہفتے میں کریں گے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ سروے کے اعداد و شمار کی درجہ بندی کرکے اسے عام لوگوں تک پہنچایا جائے۔ ہمیں سروے سے زیادہ اس کی فکر ہے۔سماعت کے دوران مرکز کی جانب سے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے کہا کہ بہار حکومت نے ذات کا سروے کرایا ہے، اسے مردم شماری نہیں کہا جا سکتا۔ قبل ازیں عدالت میں داخل کردہ جواب میں مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ مردم شماری جیسے عمل کو انجام دینے کا حق صرف مرکز کو ہے۔