ذہنی تناؤ کے باعث 5 برسوں میں 119 میڈیکل طلبہ کی خودکشی

   

1116 طلبہ نے درمیانی ترک تعلیم کی، آر ٹی آئی کے سوال پر این ایم سی کے سنسنی خیز جوابات
حیدرآباد ۔ 10 مئی (سیاست نیوز) طبی تعلیم کے طلبہ بہت زیادہ ذہنی تناؤ کا شکار ہورہے ہیں۔ دباؤ پر قابو نہ پاتے ہوئے انتہائی افسردگی اور مایوسی کی وجہ سے کم عمری میں خودکشی کرتے ہوئے اپنی زندگی کا وقت سے پہلے خاتمہ کررہے ہیں۔ مسابقتی ماحول، امتحانات میں فیل ہوجانے کا خوف، خوداعتمادی میں کمی، اکیڈیمک نصابی دباؤ سے طلبہ پریشان ہیں۔ آرام کی کمی اور کام کا منفی ماحول خودکشی کی وجہ میں تبدیل ہورہا ہے۔ یونائیٹیڈ ڈاکٹرس فرنٹ (UDF) کی طرف سے دائرہ آر ٹی آئی پر نیشنل میڈیکل کمیشن کے جواب میں میڈیکل طلبہ کی خودکشی کے بارے میں سنسنی خیز تفصیلات سامنے آئی ہیں۔ نیشنل میڈیکل کونسل نے واضح کیا ہیکہ گزشتہ 5 برسوں کے دوران ملک بھر میں میڈیکل کے 119 طلبہ نے خودکشی کی جن میں 64 ایم بی بی ایس، 55 ایم ڈی ؍ ایم ایس کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ ہیں۔ این ایم سی نے بتایا کہ ان پانچ برسوں کے دوران ملک کے 512 کالجس میں 1116 طلبہ درمیان میں ہی تعلیم ترک کردی ہے۔ ان میں 160 ایم بی بی ایس اور 956 پی جی طلبہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ملک بھر کے مختلف میڈیکل کالجس کے انتظامیہ کی لاپرواہی سے متعلق 1680 شکایتیں وصل ہوئی۔ طبی ماہرین کا کہنا ہیکہ حیدرآباد کے بشمول ملک بھر کے نوجوان ڈاکٹرس میں کام کا بوجھ کم کرنے کو نظرانداز کیا جارہا ہے جس سے میڈیکل طلبہ میں ذہنی تناؤ بڑھ رہا ہے۔ کالجس میں ریاگنگ اور ہراسانیوں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔ ذہنی دباؤ کا شکار طلبہ کی کونسلنگ کریں۔ یوگا اور ذہنی صحت کو فروغ دینے کیلئے میڈیکل کالجوں میں ماہرین خصوصی کا تقرر کریں اور طلبہ میں احساس کمتری کو دور کرنے شعور بیداری پروگرامس کا انعقاد کریں۔ کٹھن نصاب، امتحان میں ناکامی کا خوف اور امتحانی تناؤ میڈیکل طلبہ میں خودکشی کا باعث بن رہا ہے۔2