رمضان سے قبل شعبان میں ہی زکوۃ کی ادائیگی مستحقین کیلئے فائدہ مند

   

مساجد کے ذمہ داران حفاظ کے ساتھ قرآن کو سمجھنے کیلئے علما کو بھی مقرر کریں: مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی

حیدرآباد، 10فروری (پریس نوٹ) ’’ماہ شعبان اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو بدلنے کا مہینہ ہے۔ اس ماہ میں کئی اہم باتیں ہیں۔ خود حضورؐ نے فرمایا کہ شعبان میرا مہینہ ہے‘‘۔ ان خیالات کا اظہار شاہی مسجد باغ عام کے امام و خطیب مولانا ڈاکٹر احسن بن محمد الحمومی نے کیا۔مولانا نے کہا کہ ماہ شعبان اسلامی تاریخ کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ اسی ماہ میں قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو ا اورکعبہ اللہ مسلمانوں کا قبلہ بنا۔ ماہ شعبان اس لیے بھی اہم ہے کہ رمضان کی آمد سے قبل ہی صحابہ کرامؓ، تابعین، تبعہ تابعین اور دیگر اولیا کرام ؒاپنی زکوۃ نکال دیا کرتے تھے۔ وہ خود بھی رمضان کی تیاری آمدِرمضان سے پہلے ہی کرلیتے اور جو مستحقِ زکوۃ ہیں، ان کیلئے بھی آسانی ہوجاتی۔ رمضان سے پہلے ہی رمضان کی تمام طرح کی تیاریاں ماہ شعبان میں مکمل کرلی جائے۔ اس ماہ ہم اپنے گھر کی ضروریات پوری کرلیں اورجو ضرورت مند ہیں؛ان کی ضرورتیں بھی پوری کی جائے۔ رمضان سے قبل ہی جہاں قرآن پڑھنے کا شوق بڑھ جاتا ہے؛ وہیں قرآن مجید کو سمجھنے کی کوشش بھی کی جائے۔ مساجد میں اگر روزانہ ایک پارہ پڑھا جارہا ہے تو کم از کم ایک رکوع کے بارے میں تو سمجھا جائے۔ مساجد کے ذمہ داران بہترین حفاظ کرام کے انتخاب کے ساتھ ساتھ علما کی بھی خدمات لیںاور نماز تروایح کے درمیان یا نماز تروایح کے بعد کم از کم پندہ منٹ ہی سہی تراویح کا خلاصہ یا ترجمہ پیش کیا جائے۔ رمضان کی آمد سے قبل بجلی، آہک پاشی، مصلے اور دیگر انتظامات میں لاکھوں روپئے خرچ ہوتے ہیں، لیکن رمضان کی پہچان اس سے نہیں بلکہ رمضان کی پہچان قرآن مجیدکو سننے و سمجھنے سے ہے۔ رمضان میں مدارس بند اور علما خالی رہتے ہیں۔ تفہیم قرآن کے ضمن میں ان علما کی خدمات لی جائے۔ ماہ شعبان میں ایک عظیم رات یعنی شب برات ہے۔ جس کے بارے میں حضورؐ نے فرمایا کہ اس رات جاگو اور دن میں روزہ رکھو۔ اسی رات لوگوں کی تقدیر لکھی جاتی ہے۔ مولانا احسن نے کہا کہ گناہ کرنے کے بعد شرمندگی اور ندامت ضروری ہے۔ اللہ ہر ایک کی توبہ قبول کرتے ہیں۔ غلطی کے بعد آئندہ اس غلطی کو نہ کرنے کے ارادے سے کی گئی معافی بھی قبول ہوتی ہے۔ لیکن توبہ کے نام پر اللہ سے مذاق نہ کیاکرو، ہر بار صدق دل سے توبہ کی جائے۔ اگر بندہ دن میں ستر بار غلطی کرے اور اللہ سے معافی چاہے تب بھی اللہ اس کی توبہ کو قبول کرتے ہیں۔ خدا کی رحمت کا دریا نہایت وسیع ہے۔ یہ مت سوچیے کہ اللہ معاف نہیں کرے گا، اللہ ضرور معاف کرے گا۔ کسی کی مغفرت کب، کہاں اور کیسے ہوگی، یہ نہیں کہا جاسکتا۔جو گناہ کرنے کو لازمی اور اپنا شوق سمجھتا ہے،اس پر فخر کرتا ہے؛ایسے شخص کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں کہ ’’گناہ کرنے کے بعد شرمندگی اور ندامت ضروری ہے‘‘۔ اس کا یہ مفہوم ہے کہ اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہوگی۔ اگر گناہوں کی وجہ سے پیشانی پر بل نہ آئے اور ان گناہوں پر فخر کیا جائے تو پھر اللہ کی پکڑ بڑی سخت ہوگی۔