روڈی ازم اور غنڈہ ازم سے عہدیداروں کو دھمکانے کی کوشش ناقابل برداشت

   

بی آر ایس کو سریدھر بابو کا انتباہ، بی جے پی اور بی آر ایس میں خفیہ مفاہمت کا الزام

حیدرآباد۔/12 نومبر، ( سیاست نیوز) وزیر انفارمیشن ٹکنالوجی ڈی سریدھر بابو نے انتباہ دیا کہ روڈی ازم اور غنڈہ ازم کے ذریعہ سرکاری عہدیداروں کو دھمکانے کی کوششوں کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ سی ایل پی آفس میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے سریدھر بابو نے کہا کہ کلکٹر اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کی سازش 10 دن قبل تیار کی گئی تھی اور حکومت اس منصوبہ کو بہت جلد عوام میں بے نقاب کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ ضلع کلکٹر پرتیک جین اور دیگر عہدیداروں پر حملہ کے واقعہ پر حکومت نے سنگین نوٹ لیا ہے۔ ضلع کلکٹر نے عوامی رائے جاننے اور ان کے مسائل حل کرنے کیلئے علاقہ کا دورہ کیا تھا جہاں منصوبہ بند طریقہ سے معصوم کسانوں کو مشتعل کرتے ہوئے عہدیداروں پر حملہ کرایا گیا۔ سریدھر بابو نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس معاملہ کی تفصیلی جانچ کی جارہی ہے۔ حملہ کی اس سازش میں ملوث افراد کا پتہ چلانے کیلئے تحقیقات جاری ہیں جس کے تحت حملہ آوروں اور انہیں مشتعل کرنے والوں کی نشاندہی کی جائے گی۔ تلنگانہ حکومت جمہوری انداز میں عوامی مسائل کی یکسوئی کے اقدامات کررہی ہے۔ اقتدار سے محرومی سے بوکھلاہٹ کا شکار اپوزیشن ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا کرنا چاہتی ہے۔ حکومت کے ہر قدم میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سریدھر بابو نے کہا کہ کوڑنگل میں صنعتوں کے قیام کی بی آر ایس قائدین کی جانب سے مخالفت کی جارہی ہے۔ حکومت حملہ کے سازشیوں کو عوام کے درمیان بے نقاب کرے گی جو ریاست کی ترقی کو روکنا چاہتے ہیں۔ کسانوں کو مشتعل کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ کسی بھی مسئلہ کو سیاسی رنگ دیتے ہوئے فائدہ حاصل کرنا کانگریس پارٹی اور حکومت کا مقصد نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے ٹی آر کے دورہ نئی دہلی کا مقصد کیا ہے وہ اس بارے میں لاعلم ہیں۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے تلنگانہ کو بی جے پی کا اے ٹی ایم قرار دینے کی کے ٹی آر کی جانب سے تائید پر تبصرہ کرتے ہوئے سریدھر بابو نے سوال کیا کہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستیں کیا بی جے پی کیلئے اے ٹی ایم بن چکی ہیں؟ ۔ تلنگانہ کو معاشی بحران کا شکار بنانے والے کے سی آر آج اسکیمات کے سلسلہ میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔ معاشی پسماندگی کے سی آر سے کانگریس کو وراثت میں ملی ہے باوجود اس کے حکومت انتخابی وعدوں پر عمل آوری میں کامیاب ہوچکی ہے۔ انہوں نے جھارکھنڈ اور مہاراشٹرا میں کانگریس کی کامیابی کو یقینی قرار دیا اور کہا کہ بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کیلئے کے ٹی آر کانگریس کو نشانہ بنارہے ہیں۔ دونوں پارٹیاں خفیہ مفاہمت کے ذریعہ کانگریس پر تنقید کررہی ہیں۔1