تلنگانہ کو کانگریس کا اے ٹی ایم بنانے کے الزام کا اعادہ۔ ورکنگ صدر بی آر ایس کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 24۔ مئی ۔(سیاست نیوز) چیف منسٹر اے ریونت ریڈی فوری اپنے عہدہ سے استعفیٰ پیش کرکے ان پر عائد بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کریں۔کارگذار صدر بھارت راشٹرسمیتی کے ٹی راما راؤ نے آج تلنگانہ بھون میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے نیشنل ہیرالڈ اور ینگ انڈیا کے مقدمہ میں پیش کی گئی چارج شیٹ میں چیف منسٹر کا نام شامل کئے جانے پر کہا کہ بی آر ایس کئی برسوں سے یہ بات کہہ رہی ہے کہ ریونت ریڈی نے تلنگانہ کو ’کانگریس کے اے ٹی ایم ‘ میں تبدیل کردیا ہے اوراب ای ڈی نے اس بات کی توثیق کردی ہے۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ سے کانگریس کو کی جانے والی فنڈنگ پر کہا کہ چیف منسٹر راست ان معاملات میں ملوث ہیں اور وہ اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے اب تک 44 مرتبہ اپنے سیاسی و غیر سیاسی آقاؤں سے ملاقات کیلئے دہلی کا دورہ کرچکے ہیں۔ انہو ںنے چیف منسٹر پر الزام عائد کیا کہ وہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے مدد حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ وہ تلنگانہ میں کانگریس کی بدعنوانیوں کے خلاف کاروائی کو یقینی بنائیں اور اس کیلئے بی آرایس مرکز میں زیر اقتدار بی جے پی کو ایک ماہ کی مہلت دیتی ہے اگر اس دوران کانگریس قائدین کے خلاف کارروائی نہیں کی جاتی ہے تو بی آر ایس عوام کے درمیان جائے گی اور مرکزی بی جے پی کو بھی بے نقاب کرے گی۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ میں کانگریس اقتدار میں آنے کے بعد مختلف بدعنوانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے اقتدار حاصل کرنے کے بعد سے اپنے اختیارات کا بے جا استعمال کیا ہے ۔ انہوں نے ’امرت اسکام‘ کا تذکرہ کیا جس میں ٹھیکہ کی حوالگی میں بدعنوانیوں کے الزام عائد کئے گئے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کی بدعنوانیوں پر بی جے پی کی خاموشی کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ کانگریس کے خلاف بی جے پی کی خاموشی کئی سوال پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بدعنوانیوں کے الزامات پر کرناٹک کے سابق چیف منسٹر بی ایس یدیورپا مستعفی ہوسکتے ہیں تو تلنگانہ کے چیف منسٹر ریونت ریڈی کیوں نہیں ! ۔ انہوں نے ای ڈی کی جانب سے سونیا گاندھی اور راہول گاندھی کے خلاف مقدمہ پر کانگریس کے مختلف گوشوں سے مذمت کا تذکرہ کیا اور کہا کہ اس معاملہ میں ریونت ریڈی مکمل خاموش رہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ خود اس میں ملوث ہیں اسی لئے سب جانتے ہیں۔ کے ٹی آر نے کانگریس ہائی کمان سے مطالبہ کیا کہ اگر کانگریس تلنگانہ میں بدعنوانیوں سے پاک شفاف حکمرانی کو یقینی بنانا چاہتی ہے تو فوری جن قائدین کے خلاف بدعنوانیوں کے الزامات ہیں ان پر کارروائی کرکے انہیں عہدوں سے برطرف کیا جائے ۔ کے ٹی آر نے ریاستی وزیر پی سرینواس ریڈی کے کے خلاف ای ڈی کے دھاوؤں کے باوجود کسی طرح کی تفصیلات کے انکشاف نہ کئے جانے پر حیرت کا اظہار کیا ۔بی آر ایس قائد نے تلنگانہ میں کانگریس حکومت کو بی جے پی کی مدد حاصل ہونے کا الزام عائد کیا۔3