ریونت ریڈی کو خواتین کی بددعا ضرور لگے گی

   

کاماریڈی میں بی آر ایس کے احتجاج کے دوران سابق رکن اسمبلی گمپا گوردھن کا خطاب
کاماریڈی ۔ 8ستمبر ۔ ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز ) اسمبلی کے قریب خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ پولیس کے مبینہ بد سلوک پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کاماریڈی کے سابق رکن اسمبلی گمپا گووردھن نے کہا کہ خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ پولیس کا برتاؤ انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ صدر ضلع بی آر ایس پارٹی محمد خواجہ مجیب الدین کی صدارت میں آج احتجاجی دھرنا منعقد کیا گیا جس میں پارٹی کے قائدین کارکن اراکین بلدیہ نے بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہوئے حکومت کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ۔ اس موقع پر سابقہ رکن اسمبلی گمپا گوردھن اپنے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر ریونت ریڈی کو خواتین کی بددعا ضرور لگے گی۔ خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ حکومت کے رویے کے خلاف بی آر ایس پارٹی شدید ناراضگی ظاہر کی۔ ریلوے کمان کے قریب ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کے مجسمے کے پاس سابق رکن اسمبلی گمپا گووردھن کی قیادت میں پارٹی پرچم لہرایا گیا اور امبیڈکر کے مجسمے کو یادداشت پیش کی گئی۔ بعد ازاں گمپا گووردھن اور بی آر ایس کارکن اچانک ریلوے کمان پر چڑھ گئے اور وہیں بیٹھ کر حکومت کے خلاف نعرے بلند کئے۔ تقریباً 20 منٹ تک احتجاج جاری رہنے کے باعث ٹریفک کی آمدورفت متاثر ہوئی، جس پر پولیس نے گاڑیوں کا رخ موڑ دیا۔ احتجاج ختم نہ ہونے پر پولیس نے گمپا گووردھن کو زبردستی اُٹھا کر ان کی کار میں بٹھایا اور انہیں گھر روانہ کرنے کی کوشش کی، تاہم بی آر ایس کارکنوں نے اس کی مزاحمت کرتے ہوئے کار کے سامنے بیٹھ کر احتجاج کیا۔ پولیس نے کارکنوں کو وہاں سے ہٹا کر کار کو روانہ کردیا۔بی آر ایس قائدین نے سوال کیا کہ ایک خاتون رکن اسمبلی کی ساڑی کھینچنے اور دوسری خاتون رکن اسمبلی کا گلا پکڑنے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ کانگریس حکومت کا یہی احترام ہے؟ انہوں نے واقعہ کے ذمہ دار پولیس اہلکاروں کو فوری طور پر گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔