کیف ۔ 12 ستمبر (ایجنسیز) یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ یوکرین جنگ کے خاتمہ کی کوششوں کے تحت ڈسمبر میں ہونے والے G-20 سربراہی اجلاس کے موقع پر روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کیلئے تیار ہیں۔ زیلنسکی نے جرمن نشریاتی ادارے ڈی ڈبلیو کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں کہا کہ اگر انہیں اور پوٹن دونوں کو ڈسمبر کے اجلاس میں مدعو کیا گیا تو وہ چاہیں گے کہ روسی صدر سے ملاقات کریں۔ زیلنسکی نے کہا کہ ہمیں آنا ہوگا، ہمیں ملنا ہوگا، بات کرنا ہوگی اور فیصلے کرنا ہوں گے۔ ان کے مطابق یہ اہم نہیں کہ دونوں رہنما ایک دوسرے سے کیا کہتے ہیں بلکہ اصل اہمیت مذاکرات کے نتیجے کی ہے۔ امریکہ اس وقت روس اور یوکرین کے درمیان طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکرات دوبارہ شروع کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکی مذاکرات کاروں نے کیف اور ماسکو کے دورہ کئے ہیں جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اور پوٹن نے بھی رواں ہفتہ ٹیلی فون پر جنگ کے بارے میں بات چیت کی۔ گزشتہ ہفتہ امریکی مذاکرات کار اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر ماسکو گئے تھے اور کریملن نے ٹرمپ اور پوٹن کے درمیان تقریباً ایک گھنٹے کی ٹیلی فونک گفتگو کو ’’انتہائی واضح اور تعمیری‘‘ قرار دیا تھا۔امریکہ رواں سال G-20 کی صدارت کر رہا ہے اور تنظیم کا سربراہی اجلاس ڈسمبر میں میامی میں ہوگا۔ G-20 میں 19 ممالک کے علاوہ یورپی یونین اور افریقی یونین بھی شامل ہیں۔ روس کے وزیر خزانہ پہلے ہی رواں سال G-20 کے ایک اجلاس میں شرکت کر چکے ہیں، جس پر یوکرین کے بعض اتحادی ممالک نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
ایک روسی سفارت کار کے مطابق ماسکو آئندہ ہفتہ ہیوسٹن میں ہونے والے G-20 توانائی اجلاس میں بھی اپنے نمائندہ بھیجے گا۔ اگر ڈسمبر میں زیلنسکی اور پوٹن کی ملاقات ہوتی ہے تو یہ جنگ کے خاتمہ کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔