اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو بھی حاضر ہونے کی ہدایت ، اسپیشل چیف سکریٹری کا بیان
حیدرآباد۔ریاستی حکومت کے تمام اسکولوں اور کالجس میں 21 ستمبر سے 50 فیصد عملہ کو حاضر ہونا ہوگا۔ریاستی حکومت کے محکمہ تعلیم نے مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ لاک ڈاؤن میں رعایت کے چوتھے مرحلہ کا جائزہ لینے کے بعد یہ احکام جاری کئے ہیں ۔اسپیشل چیف سیکریٹری حکومت تلنگانہ مسز چترا رامچندرن نے اسکول و کالجس میں تدریسی و غیر تدریسی عملہ کی حاضری کے سلسلہ میں جاری کردہ میمو میں یہ واضح کیا کہ ریاست میں آن لائن و ڈیجیٹل تعلیم کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس کی نگرانی کیلئے ریاست میں 50 فیصد عملہ کو حاضر رہنا ہوگا۔ریاستی حکومت کی جانب سے سرکاری اسکولوں کے تمام اساتذہ اور غیر تدریسی عملہ کو طلب کیا جارہا تھا لیکن لاک ڈاؤن میں رعایت کے چوتھے مرحلہ میں کئے جانے والے اقدامات کا جائزہ لینے کے بعد حکومت تلنگانہ نے 21 ستمبر سے 50 فیصد عملہ کو طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔میمو میں واضح کیا گیا ہے کہ مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق کنٹینمنٹ زون کے باہر موجود اسکولوں میں ہی نصف فیصد عملہ کی موجودگی لازمی ہوگی جبکہ کنٹینمنٹ زون والے علاقوں میں کوئی تعلیمی سرگرمیاں جاری نہیں رہیں گی۔ریاستی حکومت کی جانب سے یکم ستمبرسے تعلیمی سال کے آغاز کے اعلان کے ساتھ تمام اساتذہ کو اسکول طلب کیا جا رہا تھا جس پر مختلف گوشوں سے اعتراض بھی کیا جانے لگا تھا لیکن ریاستی حکومت کی جانب سے اب جو احکام جاری کئے گئے ہیں ان کے مطابق روزانہ نصف عملہ کی خدمات کے حصول کے ذریعہ آن لائن اور ڈیجیٹل تعلیم کے علاوہ طلبہ کے سوالات کے ٹیلی فون پر جوابات کو یقینی بنایا جائے گا۔محکمہ تعلیم کی جانب سے باضابطہ کلاسس کے آغاز کے سلسلہ میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی ہے اور نہ ہی اس مسئلہ کا جائزہ لینے کے اقدامات کو یقینی بنایا جارہا ہے کیونکہ اسکولوں کے باضابطہ آغاز کے سلسلہ میں تاحا ل کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور نہ ہی مرکزی حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کوئی احکامات موصول ہوئے ہیں ۔