تہران ۔ 29 اگست (ایجنسیز) ایران کا کہنا ہے کہ وہ سفارت کاری اور دفاعی حکمت عملی دونوں کو بیک وقت استعمال کرتا رہے گا۔ مشرق وسطیٰ کی تازہ ترین صورتحال کے ساتھ ساتھ دنیا بھر سے اہم خبریں یہاں ملاحظہ کیجیے۔ ایرانی حکومت نے کہا ہے کہ وہ امریکی اقتصادی پابندیوں اور امریکہ و اسرائیل کی مبینہ ’’سازشوں‘‘ کے مقابلے میں اپنے مؤقف پر قائم رہے گی اور ملکی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارت کاری اور دفاعی صلاحیت دونوں کابیک وقت استعمال کرے گی۔ سرکاری میڈیا کے ذریعہ ہفتہ کو جاری کردہ بیان میں حکومت نے کہا کہ سفارت کاری اور دفاع ایک دوسرے کے متبادل نہیں بلکہ باہم مربوط اور ناقابل علیحدگی ذرائع ہیں۔ حکومت کے مطابق دونوں محاذوں پر بیک وقت کام کرتے ہوئے ایران کے قومی مفادات، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا تحفظ کیا جائے گا۔ یہ بیان ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران کو امریکی پابندیوں اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی کا سامنا ہے۔ ایرانی حکومت نے اندرون ملک اقتصادی مسائل سے نمٹنے کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ بیان کے مطابق حکومت مہنگائی پر قابو پانے، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور مقامی پیداوار کو فروغ دینے پر توجہ دے گی۔ اس کے ساتھ ایران نے اپنی معیشت کا امریکی ڈالر پر انحصار بتدریج کم کرنے کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد امریکی مالیاتی پابندیوں کے ایرانی معیشت پر اثرات کو محدود کرنا ہے۔ حکومت کے تازہ بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران ایک جانب سفارتی راستے کھلے رکھنا چاہتا ہے، جبکہ دوسری جانب امریکی دباؤ کے مقابلے میں اپنی دفاعی اور اقتصادی پالیسیوں سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔