بی سی ریزرویشن کی منظوری کیلئے چلو دہلی مہم شروع ہوگی : کویتا
نظام آباد 6 /اگست (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) بی آر ایس کی سربراہ کے کویتا نے کہا کہ سماجی انصاف کے حصول کے لیے شروع کی گئی “سماجی انصاف تلنگانہ سنکلپ سبھا” ملک بھر میں کروڑوں محروم طبقات کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کی تحریک ثابت ہوگی۔ انہوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ بی سی (پسماندہ طبقات) کو قانون ساز اداروں میں مناسب نمائندگی فراہم کرنے کے لیے ریزرویشن بل آئندہ بجٹ اجلاس سے قبل منظور کیا جائے، بصورت دیگر ایک ہزار گاڑیوں کے قافلے کے ساتھ “چلو دہلی” احتجاجی مہم چلائی جائے گی ۔سرور نگر میں منعقدہ سماجی انصاف سنکلپ سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کویتا نے کہا کہ سماجی انصاف صرف بی سی طبقے کا نہیں بلکہ ایس سی، ایس ٹی، اقلیتوں، خواتین، ٹرانس جینڈر افراد، معذوروں اور تمام محروم طبقات کا حق ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ بی سی طبقات کے حقوق کی بات کرتی ہیں تو بعض لوگ ان کے اعلیٰ ذات سے تعلق رکھنے پر اعتراض کرتے ہیں، لیکن “ان کی پیدائش ان کے اختیار میں نہیں تھی، البتہ وہ کس کے لیے کام کریں گی، یہ فیصلہ ان کا اپنا ہے۔کویتا نے دعویٰ کیا کہ بی سی آبادی ملک میں نصف سے زیادہ ہے، اس لیے انہیں قانون ساز اداروں میں 50 فیصد ریزرویشن دیا جانا چاہیے۔انہوں نے بی جے پی اور کانگریس دونوں کو بی سی طبقات کے ساتھ انصاف کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر بجٹ اجلاس تک بل منظور نہ ہوا تو ملک گیر احتجاج شروع کیا جائے گا۔انہوں نے پروفیسر جئے شنکر کے خوابوں کو پورا کرنے اور سماجی تلنگانہ کی تشکیل کے لیے متحد ہو کر جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔اس موقع پر انہوں نے متعدد قراردادیں بھی پیش کیں، جن میں بی سی طبقات کو قانون ساز اداروں میں 50 فیصد ریزرویشن، مہاتما جیوتی راؤ پھولے اور ساوتری بائی پھولے کو بھارت رتن دینے، پروفیسر جئے شنکر کو پدم وبھوشن دینے، ایس سی، ایس ٹی بیک لاگ آسامیوں کو پْر کرنے، قبائلیوں کے جنگلاتی حقوق، خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن، مسلمانوں کے حقوق اور وقف قانون، سکھوں، عیسائیوں، ٹرانس جینڈر افراد اور معذوروں کی فلاح و بہبود کے لیے مؤثر اقدامات شامل ہیں۔