سپریم کورٹ میں تیجسوی یادو کے خلاف دائرہتک عزت کا مقدمہ منسوخ

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے راشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) لیڈر اور بہار کے سابق نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو کے خلاف ان کے متنازعہ تبصرہ کے حوالے سے احمد آباد کی ایک عدالت میں دائر ہتک عزت کا مقدمہ معافی مانگنے کے ساتھ ہی اپنا بیان واپس لینے کے بعد پیر کو منسوخ کر دیا۔جسٹس ابھے ایس اوکا اورجسٹس اجل بھوئیاں کی بنچ نے معاملے میں آر جے ڈی لیڈر کے معافی نامہ کو قبول کرنے کے بعد انہیں راحت فراہم کی۔ یادو نے گزشتہ سال مارچ میں ایک بیان میں کہا تھا کہ صرف گجراتی ہی ٹھگ ہو سکتے ہیں۔ اس کے بعد گجرات کے احمد آباد کے رہنے والے تاجر ہریش مہتا نے عدالت میں ان کے خلاف ہتک عزت کی شکایت درج کرائی تھی۔ مبینہ طور پر مجرمانہ ہتک عزت کے لئے یادو کے خلاف تعزیرات ہند (آئی پی سی) کی دفعہ 499 اور 500 کے تحت شکایت درج کی گئی تھی۔عدالت عظمیٰ نے گزشتہ ماہ شکایت کنندہ سے پوچھا تھا کہ جب یادو نے اپنا تبصرہ واپس لے لیا ہے تو ہتک عزت کا مقدمہ کیوں جاری رکھا جائے ۔سپریم کورٹ میں دائر اپنی درخواست میں یادو نے احمد آباد کی عدالت میں زیر التواء مجرمانہ ہتک عزت کی شکایت کو گجرات سے باہر دہلی یا کسی دوسری ریاست میں منتقل کرنے کی درخواست کی تھی۔ تب سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل 142 کے تحت اختیارات استعمال کرنے کا اشارہ دیا تھا۔