سپریم کورٹ میں ممنوعہ ’سکھ فار جسٹس‘ کے رکن گروندر کی ضمانت مسترد

   

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے خالصتان کا مطالبہ کرنے والی ممنوعہ تنظیم ‘سکھ فار جسٹس’ کے مبینہ رکن گرویندر سنگھ کی عرضی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف سنگین جرم کے معاملے میں سماعت میں تاخیر نچلی عدالت میں ضمانت دینے کی بنیاد نہیں ہو سکتی۔جسٹس ایم ایم سندریش اور اروند کمار کی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف دائر گرویندر کی اپیل کو خارج کرتے ہوئے یہ حکم جاری کیا۔پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اپریل 2023 میں نچلی عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی گرویندر کی درخواست کو مسترد کر دیا تھا، جسے اس نے سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔سپریم کورٹ کی دو رکنی بنچ نے بدھ کو گورویندر کی ضمانت کی درخواست مسترد کرنے کے پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ کے حکم کے خلاف اپیل دائر کی۔پنجاب پولیس نے دہشت گرد تنظیم کے ایک ماڈیول کا پردہ فاش کیا تھا اور سال 2018 میں اسے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ سمیت دیگر سنگین دفعات کے تحت گرفتار کیا تھا۔پولیس سے تفتیش سنبھالنے کے بعد نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے ) نے تفتیش شروع کر دی ہے ۔ ٹرائل کورٹ نے 9 دسمبر 2021 کو چارج شیٹ فرد جرم عائد کی تھی۔