Wednesday , September 30 2020

سی اے اے اور این اارسی ریکوری معاملہ‘ یوپی حکومت نے چوراہوں پر مظاہرین کے لگائے پوسٹر

Lucknow: People walk past a poster displaying photographs of those who have been identified to pay the compensation for vandalizing public properties during protests against CAA, in Lucknow, Friday, March 6, 2020. (PTI Photo/Nand Kumar) (PTI06-03-2020_000129B)

اپوزیشن کی شدید برہمی‘ ایس پی‘ کانگریس نے کہا’مجرم ثابت ہونے سے پہلے ہی اپنے شہروں کی اس طرح توہین کا یہ پہلا واقعہ ہے‘

دارا پوری کا ہتک عزت کامقدمہ دائر کرنے کا عندیہ‘ باقی مظاہرین بھی ہائی کورٹ میں کریں گے چیلنج‘ ریاستی وزیرکا انتباہ‘ کسی کو بخشا نہیں جائے گا

لکھنو۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) اور این آرسی واین پی آر کے خلاف 19ڈسمبرکو ریاستی راجدھانی لکھنو میں ہوئے مظاہرے کے دوران تشدد کے معاملوں میں لکھنو ضلع انتظامیہ نے جمعرات کی رات 57مظاہرین کے پوسٹرز شہر کے مختلف چوراہوں پر چسپاں کردیا جس پر اپوزیشن نے شدید ردعمل ظاہر کیاہے۔

سیول سوسائٹی کے ارکان اور وہ لوگ جن کے نام او رتصویر مظاہرہ کاحصہ نہ ہوتے بھی چسپاں کردی گئی ہے‘ نے بھی اس کاروائی پر سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

کئی لوگوں نے تو ہائی کورٹ میں چیلنج کرنے کے ساتھ ساتھ ہتک عزت کا مقدمہ بھی دائر کرنے کا عندیہ دیاہے۔

تاہم ضلع مجسٹریٹ کا کہنا ہے کہ کاروائی یقین ہے۔ وہیں ریاستی وزیر محسن رضا نے بھی وارننگ دیتے ہوئے کہاکہ جن کے پوسٹرز لگے ہیں وہ سبھی تشدد میں شامل رہے ہیں اور ان میں سے کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔

ضلع انتظامیہ نے 57مظاہرین کے پوسٹرز لگائے ہیں جن میں ریٹائرڈ ائی جی ایس آر دارا پوری ’رہائی منچ کے سربراہ ایڈوکیٹ محمد شعیب‘ کانگریس رہنما و اداکارہ صدف جعفر‘ تھیٹر آرٹسٹ دییک کبیر‘

سماجی کارکن پون راؤ امبیڈکر‘ شیعہ رہنما کلب صادق کے بیٹے سبطین نوری اور مرکزی شیعہ چاند کمیٹی کے صدر مولانا سیف عباس جیسی نامی گرامی لوگ شامل ہیں۔

پوسٹرزحضرت گنج چوراہا کے علاوہ قیصر باگ‘ ٹھاکر گنج‘ حسن گنج میں بھی لگائے گئے ہیں۔

ضلع مجسٹریٹ ابھیشیک پرکاش کا کہنا ہے کہ ان57لوگوں سے 88لاکھ 6ہزار 537روپئے وصول کئے جائیں گے۔

باقی لوگوں کے رول کی بھی جانچ کی جارہی ہے اوران میں سے جو بھی قصوار پائے جائیں گے‘ انہیں نوٹس بھیج کر باقی نقصانات کی بھرپائی کے لئے وصولی کی جائے گی۔

ضلع انتظامیہ کے مطابق لکھنو میں ایک کروڑ 55لاکھ روپئے کا نقصان ہوا ہے۔

ان میں سے حضرت گنج علاقہ میں 6437637روپئے 28افراد سے کی جائے گی جبکہ حسن گنج میں ہوئے 21لاکھ72ہزار روپئے کے نقصانات 13قصور واروں سے وصولے جائیں گے۔

قیصر گنج کے 6مجرمین سے پونے دولاکھ روپئے کی ریکوری ہوگی جبکہ ٹھاکر گنج کے 10قصوارواروں سے 67لاکھ73ہزار900روپئے وصول کئے جائیں گے۔

علاوہ ازیں ستکھنڈہ حسین آباد میں 67لاکھ 73ہزار900روپئے کے نقصانات ہوئے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT