شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات پر حکم التواء کی بر خواستگی سے ہائی کورٹ کا انکار

   

اسکیمات کی تفصیلات کے ساتھ حلفنامہ داخل کرنے حکومت کو ہدایت
حیدرآباد۔20۔اگسٹ (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائی کورٹ نے شادی مبارک اور کلیان لکشمی اسکیمات پر حکم التواء کی برخواستگی سے انکار کیا اور حکومت کی جانب سے نامکمل تفصیلات پر مبنی حلفنامہ داخل کرنے پر برہمی ظاہر کی۔ جسٹس این وی شراون کمار کے اجلاس پر آج دونوں فلاحی اسکیمات کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کی گئی درخواست کی سماعت ہوئی۔ حکومت کی جانب سے حلفنامہ داخل کیا گیا جس میں دونوں اسکیمات کی قانونی حیثیت کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئی۔ جسٹس شراون کمار نے نامکمل حلفنامہ پر ناراضگی جتائی۔ انہوں نے کہا کہ مفت فلاحی اسکیمات کے نتیجہ میں ریاست معاشی طورپر کمزور ہوسکتا ہے، لہذا حکومتوں کو چاہئے کہ فلاحی مفت اسکیمات کی ایک حد مقرر کریں۔ بصورت دیگر شعبہ جات متاثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملازمت سے سبکدوش ہونے والے پنشنرس کے بینیفٹس ادا کرنے کے موقف میں نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی صورتحال کا بہانہ بناکر بینیفٹس جاری نہیں کئے گئے جس کے نتیجہ میں پنشنرس کو انصاف کیلئے ہائی کورٹ سے رجوع ہونا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ پراجکٹس کیلئے حاصل کردہ اراضیات پر متاثرین کو معاوضہ کی ادائیگی کے بغیر مفت اسکیمات پر عمل آوری کی جارہی ہے۔ انہوں نے حکومت کو دونوں اسکیمات کی تفصیلات پر مبنی حلفنامہ داخل کرنے کی ہدایت دی۔ واضح رہے کہ جسٹس شراون کمار نے 12 اگست کو دونوں اسکیمات پر حکم التواء جاری کیا تھا۔ ایڈوکیٹ وجئے گوپال نے اپنی درخواست میں شکایت کی کہ دونوں اسکیمات قانونی منظوری کے بغیر ہی سرکاری احکامات کے ذریعہ عمل کی جارہی ہے ۔ حکومت نے حلفنامہ دائر کرتے ہوئے حکم التواء سے دستبرداری کی درخواست کی ، تاہم عدالت نے درخواست کو قبول نہیں کیا۔1/k