شاہی مسجد باغ عامہ میں لیگل سرویس اتھاریٹی کے ثالثی مرکز کے قیام کی منظوری

   

عائلی مسائل کے حل اور آپسی تنازعات کی یکسوئی ، مولانا احسن بن عبدالرحمن الحمومی کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔ 23۔مئی ۔ (سیاست نیوز) عائلی مسائل کے حل اور آپسی تنازعات کی یکسوئی کے علاوہ قانونی رائے کی فراہمی کا مرکز جو کہ شاہی مسجد باغ عامہ میں چلایا جاتا ہے وہ اب تلنگانہ لیگل سروس اتھاریٹی کے ساتھ ملحقہ ادارہ کے طور پر خدمات انجام دے گا۔ شہرحیدرآباد میں مرکزی مقام پر لیگل سروس اتھاریٹی کے ذریعہ ثالثی کے مرکز کے قیام کو منظوری حاصل ہوئی ہے اور شاہی مسجد باغ عامہ میں اس مرکز کا افتتاح بروز ہفتہ 24 مئی کو بعد نماز مغرب عمل میں لایا جائے گا۔ مولانا ڈاکٹر حافظ احسن بن عبدالرحمن الحمومی خطیب وامام شاہی مسجد باغ عامہ نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ شاہی مسجد باغ عامہ میں گذشتہ 7برسوں سے عائلی مسائل کے حل کے علاوہ آپسی تنازعات کی یکسوئی اور قانونی رائے کی فراہمی کے سلسلہ میں اقدامات کئے جا رہے ہیں لیکن اب اس مرکز کو ثالثی کے مرکز کے طور پر ترقی دینے کے اقدامات کو یقینی بنایا جاچکا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ عدلیہ کے حکام اور تلنگانہ لیگ سروس اتھاریٹی کے ذمہ داروں سے مشاورت کے بعد شروع کئے جانے والے اس مرکز کے ذریعہ ایسی تمام شکایات اور مقدمات جن میں 7 سال سے کم کی سزاء ہوتی ہے یہ مرکز ثالثی کا کردار ادا کرتے ہوئے ان مسائل کو حل کرنے کا مجاز ہوگا۔ مولانا حافظ احسن بن عبدالرحمن الحمومی نے بتایا کہ ’’افادہ ثالثی مرکز‘‘ کے قیام کا مقصد دونوں شہروں حیدرآبادو سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے عوام بالخصوص مسلمانوں کے مسائل اور انہیں قانونی رسہ کشی کا شکار ہونے سے محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کرنا ہے۔ انہو ںنے بتایا کہ معمولی جھگڑوں اور مسائل کو پولیس میں شکایت درج کرواتے ہوئے فریقین میں پیدا ہونے والی ناچاقی سے محفوظ رکھنے کے علاوہ دونوں فریقین کے مابین باہمی رضامندی کے ذریعہ اختلافات کو ختم کرنے میں یہ مرکز کلیدی کردار ادا کرنے کا موجب بنے گا۔ مولانا حافظ احسن بن عبدالرحمن الحمومی نے بتایا کہ موجودہ صورتحال میں اپنے مسائل کو عدالتوں میں لے جاتے ہوئے طویل قانونی رسہ کشی کا شکار رہنے اور عدالتی مقدمات کے دوران بے دریغ دولت کے اخراجات سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے وہ مسائل جن میں 7سال سے کم کی سزاء ہوتی ہے ان معاملات میں ثالثی کے ذریعہ ہونے والی افہام و تفہیم مقدمہ سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ بیشتر شہری اس بات سے لاعلم ہیں کہ عدلیہ کی جانب سے تنازعات کی یکسوئی کے سلسلہ میں باضابطہ لیگل اتھاریٹی خدمات انجام دیتی ہے اور اس کے ذریعہ فریقین کے ذرمیان مصالحت کروائی جاسکتی ہے اور ان مراکز کے ذریعہ کئے جانے والے فیصلوں کو مسلمہ حیثیت حاصل ہوتی ہے کیونکہ ان مراکز کے ذریعہ کئے جانے والے فیصلے اور مصالحت میں قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے اقدامات کئے جاتے ہیں۔اس پریس کانفرنس کے دوران خطیب و امام شاہی مسجد باغ عامہ کے ہمراہ جناب وصی الدین فاروقی ایڈوکیٹ کے علاوہ دیگر موجود تھے ۔ جناب وصی الدین فاروقی نے بتایا کہ شاہی مسجد باغ عامہ میں سال 2018 میں لیگل سیل کا قیام عمل میں لاتے ہوئے عائلی تنازعات کی یکسوئی اور قانونی مشاورت کا سلسلہ شروع کیا گیا تھا اور اس مرکز کے ذریعہ تاحال 3500 معاملات کی یکسوئی کی جاچکی ہے اور اب جبکہ تلنگانہ لیگل سروس اتھاریٹی کی جانب سے مسلمہ مرکز کے قیام کے اقدامات کئے جا رہے ہیں تو ایسی صورت میں مختلف قانونی مسائل کا شکار افراد کو بہترانداز میں مصالحت کو یقینی بنایا جاسکے گا کیونکہ اس مرکز میں قانونی اعتبار سے مسائل کی یکسوئی کے علاوہ شرعی اعتبار سے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے جید علمائے اکرام کی رائے پیش کی جاتی ہے تاکہ امت مسلمہ کو شریعت پر گامزن رہتے ہوئے اپنے مسائل کی یکسوئی میں سہولت حاصل ہوسکے ۔3