شوہر سے علیحدگی کا رجحان انتہائی افسوسناک

   

محمد اسد علی ایڈوکیٹ
آج کے دور میں ماضی کے برعکس ماحول تبدیل ہوچکا ہے۔ اس دور سے پہلے کے دور میں لڑکیاں صرف اپنے سسرال اور شوہر کو اہمیت دیتی تھیں اور ان کی خدمت کو اپنا اولین فریضہ سمجھتی تھیں لیکن آج کل حالات بالکل تبدیل ہوچکے ہیں اور بڑی تعداد میں لڑکیاں شوہر سے لڑائی جھگڑا کرکے مائیکے چلے جاتی ہیں اور وہاں جانے کے بعد موجودہ قانون کا حوالہ دیتے ہوئے شوہر کو بلیک میل کرتی ہیں اور اسے دھمکیاں دیتی ہیں کہ وہ اسے جیل پہنچادیںگی۔ ضروری نہیں کہ ہمیشہ شوہر کا ہی قصور ہو یا شوہر ظلم کرنے والا ہو ، لیکن قانون کا سہارا لے کر شوہر پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ اُن کے ناجائز مطالبات کو قبول کیا جائے۔ اگر شوہر انکار کرے تو اسے دھمکیاں دی جاتی ہے کہ وہ اس کے خلاف اور شوہر کے خاندان کے خلاف قانونی کارروائی کریں گی۔ اپنے مطالبات کی تکمیل کیلئے لڑکیاں شوہر پر ناجائز دباؤ ڈالتی ہیں اور اس سے کثیر رقم کا مطالبہ کرتی ہیں۔ موجودہ دور میں ایسے لڑکیوں کی بے راہ روی حد سے تجاوز کرچکی ہے اور چھوٹی چھوٹی باتوں بلکہ بلاوجہ شوہر سے خلع کا مطالبہ کیا جارہا ہے، حالانکہ بیشتر صورتوں میں نہ تو شوہر ظلم کرتا ہے اور نہ ہی اپنی بیوی کو تکلیف دیتا ہے لیکن معمولی معمولی باتوں پر بعض اوقات لڑکیاں شوہر سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ خلع دے ، ورنہ ان کے خلاف پولیس میں شکایت درج کراتے ہوئے عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔ بعض صورتوں میں شوہر بے قصور ہوتے ہیں لیکن مجبور ہوکر انہیں اپنی بیوی کے ناجائز مطالبات کو قبول کرنا پڑتا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہ کرے تو انہیں پولیس اور دیگر کیسیس کا سامنا کرنا پڑتا ہے حالانکہ یہ بات بھی ہے کہ سب لڑکیاں ایسی نہیں ہوتیں، لیکن موجودہ رجحان کے لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے جبکہ بیشتر لڑکیاں اسی راستے پر یعنی شوہر سے طلاق، خلع کا مطالبہ کرتی ہیں۔ اس وقت فیملی کورٹ میں کیسیس کی بڑی تعداد زیرسماعت ہے اور ان کے کثیر اخراجات غیرضروری طور پر فریقین کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں حالانکہ یہ کہا جاسکتا ہے آپسی مفاہمت ہی سب سے بہترین راستہ ہے لیکن غصہ اور انا پرستی میں اس بات کو نظرانداز کردیا جاتا ہے ۔ اگر لڑکیاں بالخصوص سمجھوتہ کرتی ہیں اور آپسی میل جول برقرار رکھتی ہیں تو ایسے تشویشناک حالات کو ٹالا جاسکتا ہے۔جبکہ کثیر تعداد میں مقدمات شوہر اور بیوی کیلئے انتہائی تکلیف دہ ہوتے ہیں اور غیرضروری طور پر عدالت کے چکر کاٹتے ہوئے اس کے اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ موجودہ دور میں حالات بالکل تبدیل ہوگئے ہیں جہاں ذرا ذرا سی بات پر شادی توڑنے کی دھمکی دی جاتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ فریقین کے والدین ہوتے ہیں کیونکہ بعض اوقات والدین کی بیجا مداخلت سے شوہر بیوی کے رشتوں میں دراڑیں پیدا ہوجاتی ہیں اور دونوں میں علیحدگی کی نوبت آجاتی ہے۔ ماضی میں بزرگوں کے مشوروں کو سر جھکا کر قبول کیا جاتا تھا لیکن اب ایسا نہیں کیا جارہا ہے۔ اسلام میں اتحاد کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے اور تاکید کی جاتی ہے کہ مفاہمت سے ہر قسم کے جھگڑوں کی یکسوئی کی جاسکتی ہے اور فریقین عدالتی کشمکش سے بھی بچ سکتے ہیں اور جو لوگ ایک دوسرے کو ناحق تکلیف دیتے ہیں، حشر کے دن ایسے لوگ ، اللہ کے سامنے مجرم ہوں گے اور ان سے سخت بازپرس ہوگی اور پھر انہیں عبرتناک سزا بھگتنی پڑے گی۔ مزید تفصیلات کیلئے فون 9959672740 پر ربط پیدا کیا جاسکتا ہے۔