شکھا اور سلمان کو ساتھ رہنے کی اجازت

   

دونوں کو علیحدہ نہیں رکھا جاسکتا ۔ الہ آباد ہائیکورٹ کی رولنگ
حیدرآباد۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے شکھا کو سلمان کے ساتھ رہنے کی اجازت دی اور کہا کہ دونوں نے اپنی مرضی سے شادی کی اور دونوں بالغ ہیں تو انہیں ساتھ رہنے سے نہیں روکا جاسکتا ۔ الہ آباد ہائی کور ٹ میں جاری مقدمہ کے دوران دو رکنی بنچ نے شکھا کو سلمان کے ساتھ زندگی گذارنے کی اجازت دی ۔ ستمبر میں اترپردیش پولیس کی جانب سے سلمان کے خلاف ایف آئی آر کو کالعدم کردیا اور کہا کہ سلمان کے خلاف الزامات بے بنیاد ہیں ۔ شکھا کے والد نے سلمان کے خلاف شکایت میں کہا تھا کہ ان کی لڑکی کا اغواء کرکے شادی کیلئے مجبور کیا گیا ہے اور وہ مجبوری کی حالت میں شادی کی ہے لیکن الہ آباد ہائی کورٹ کی دورکنی بنچ نے شکھا سے راست بات اور تفصیلات سے آگہی کے بعد یہ احکام جاری کئے ہیں اور کہا کہ شکھا کو اس کی مرضی کے خلاف زندگی گذارنے مجبور نہیں کیا جا سکتا اور نہ اس رشتہ سے علحدگی کیلئے دباؤ ڈالا جاسکتا ہے کیونکہ شکھا کے اسکول سرٹیفیکیٹ میں اس کی پیدائش 4 اکٹوبر 1999 ہے اور اس اعتبار سے وہ اپنی مرضی کے مطابق شادی کرنے کے علاوہ زندگی گذارنے کے قابل ہے اور انہیں دستور میں حق حاصل ہے اسی لئے شکھا سے یہ حق کوئی چھین نہیں سکتا۔عدالت نے سلمان اور شکھا کے معاملہ میں تیسرے شخص کی مداخلت کو مسترد کردیا اور کہا کہ دونوں بیوی اور شوہر کی حیثیت سے زندگی گذارنے آزاد ہیں اور اس میں رکاوٹ نہیں ڈالی جاسکتی اور کوئی مداخلت نہیں کرسکتا۔