شہر میں جرائم کے نئے رجحانات تشویشناک،گلیوں میں کلب کلچر

   

نشہ… حیدرآباد کی شناخت کیلئے خطرہ
شہر حیدرآباد میں نشہ کا چلن عام ، محکمہ پولیس بے بسی کا شکار، روڈی عناصر بھی اب منشیات کی منتقلی میں مگن ، با صلاحیت عہدیدار بھی خاموش، میڈیکل دوکانات ، پان شاپس اور گلی کوچوں میں نشیلی اشیاء کی فروخت! پولیس کی کارروائیوں میں سنسنی خیز انکشافات

حیدرآباد ۔ 4 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : شہر حیدرآباد کی جدید صورت گیری کے دوران جرائم کا بھی رجحان مختلف اور خطرناک صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے ۔ کلب کلچر کے علاوہ اب گلی کوچوں میں منشیات فروخت ہونے لگی ہیں ۔ گانجہ ، گانجہ چاکلیٹ ، ایم ڈی ایم اے حش آئیل کے علاوہ کوکین ، چرس ، ہیرائن کے ساتھ ساتھ نشیلی انجکشن اور اب گولیاں بھی منظر عام پر آنے لگی ہیں ۔ ایک طرف حکومت کی پالیسی اور سرکاری دعویداری ہے کہ ریاست کو نشہ سے پاک ریاست میں بدل دیا جائے گا لیکن اقدامات اور نتائج بالکل اس کے برعکس برآمد ہورہے ہیں ۔ بیماریوں کی ادویات دستیاب ہونے والی میڈیکل دوکانات میں بھی اب نشیلی اشیاء فروخت ہورہے ہیں جو شہر کی نوجوان نسل کی تباہی کا سبب بن رہے ہیں ۔ حالانکہ ریاست میں نشہ کے خلاف ایک مخصوص شعبہ کو تشکیل دیا گیا ہے ۔ پولیس ، ایکسائز ، میڈیکل ڈپارٹمنٹ ڈرگ کنٹرول ڈپارٹمنٹ ان سب کے علاوہ نو تشکیل شدہ حیدرآباد نارکوٹک انفورسمنٹ ونگ بھی ریاست میں سرگرم ہے باوجود اس کے اب شہر میں ہر قسم کی نشیلی شئے فروخت اور استعمال ہونے لگی ہے ۔ جیسا کہ پولیس کی کارروائی میں ثابت ہوچکا ہے ۔ نشہ کا کاروبار کرنے والوں میں بیرونی افریقی ممالک کے باشندے پائے جاتے تھے جو ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی ملک کے ایک شہر سے دوسرے شہر میں قیام کرتے ہوئے منشیات کو فروخت کرتے ہوئے گرفتار کئے گئے لیکن اب منشیات کے اسمگلرس کا طریقہ کار بھی بدل چکا ہے ۔ شہر کے روڈی شیٹرس بھی اب اس کاروبار میں شامل ہوچکے ہیں ۔ روڈی شیٹرس کی ٹولیوں کو کنٹرول کرنے والے اب اپنے حامیوں اور غنڈہ عناصر کو منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال کرنے لگے ہیں ۔ توڑ پھوڑ لڑائی جھگڑا جبراً وصولی ناجائز قبضہ ، سرقہ رہزنی غیر قانونی کاروبار اور سرگرمیوں کو فروغ دینے والے روڈی گینگ لیڈرس اب منشیات پر توجہ دینے لگے ہیں جس کے خطرناک نتائج برآمد ہونے لگے ہیں ۔ نشہ کے سبب معمولی بات پر قتل ہونے لگے ہیں ۔ اس پرامن اور عظیم تاریخی ورثہ کے شہر حیدرآباد کو بھی نشہ کی لعنت میں لپیٹا جارہا ہے ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی اور باصلاحیت فورس ہونے کے باوجود جب کہ سرکاری عزائم بھی نشہ کے خلاف پائے جاتے ہیں ، آخر ان کی روک تھام میں کیوں مسلسل ناکامی ہورہی ہے۔ نو تشکیل شدہ ونگ ایک ریٹائرڈ لیکن با صلاحیت اور سخت گیر موقف رکھنے والے آئی پی ایس عہدیدار کی نگرانی میں کام کرتی ہے ۔ اس عہدیدار کو شہر میں خدمات انجام دینے کا کافی تجربہ بھی پایا جاتا ہے اور اس عہدیدار نے بہت سے مثالی اقدامات کو بھی انجام دیا لیکن ایک مخصوص گروپ اس عہدیدار کو پسند نہیں کرتا۔ کیا اس عہدیدار کو اپنی مرضی سے کام کرنے کی کھلی چھوٹ حاصل نہیں ہے یا پھر کسی دباؤ کے نتیجہ میں اس عہدیدار کو برائے نام خدمات تک محدود کردیا گیا ہے ۔ گذشتہ دنوں سی سی ایس کی خصوصی ٹیم نے مانگر بستی افضل ساگر علاقہ میں کارروائی کرتے ہوئے نشیلی ادویات کے ایک بڑے ذخیرے کو ضبط کیا ۔ یہ انتہائی ہوش اڑانے والی کارروائی ثابت ہوئی جب بڑی مقدار میں نشیلی گولیوں کو ضبط کیا گیا جو مخصوص پیاکنگ میں پائی جاتی ہیں ۔ اگر اس طرح سے اقدامات جاری رہتے ہیں تو پھر یہ نشہ کے کاروباری اور اسمگلرس شہر کی شناخت کو بدل دیں گے اور عزت دار شہریوں کا جینا مشکل ہوجائے گا ۔ نشہ کے خلاف جاری اقدامات میں پولیس کو مزید سخت اقدامات کرنے ہوں گے ۔ شہریوں کی جانب سے نوجوان نسل کے تعلق سے فکر اور تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے اور پولیس و حکومت سے مطالبہ کیا جارہا ہے کہ نشہ کی جڑوں کو کاٹ دیا جائے اور شہر کو بچا لیا جائے ۔ع a/b/k/i/