غلط پتہ اور فون نمبر درج کرانے کا انکشاف،سماج میں تنہا ہونے کے خوف سے مرض کے انکشاف سے گریز
حیدرآباد: گریٹر حیدرآباد حدود میں کورونا کے کیسیس میں اضافہ کے مختلف وجوہات ہیں جن میں ایک اہم وجہ متاثرہ افراد کا علاج کے بغیر لاپتہ ہوجانا ہے۔ کورونا کی ابتدائی علامات کے بعد مریضوں کو ہوم کورنٹائن کیا جاتا ہے اور محکمہ صحت بلدیہ کے ایک حکام ایسے مریضوں کے ربط میں رہتے ہوئے ان کی صحت پر نظر رکھتے ہیں۔ کورونا ان دنوں ایک سماجی جرم کی طرح دیکھا جارہا ہے۔ کورونا متاثرہ افراد کے ساتھ عوام و رشتہ داروں کا جو رویہ ہے وہ احتیاطی تدابیر کے سلسلہ میں ہے لیکن یہ صورتحال مریضوں کیلئے تکلیف دہ اور حوصلے پست کرنے کا باعث بن رہی ہے۔ زیادہ تر مریض علاج کے سلسلہ میں لاپرواہی کا مظاہرہ کرکے سرکاری حکام سے اپنا رابطہ منقطع کرچکے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حیدرآباد میں تقریباً 2200 مریض گزشتہ دو ہفتوں کے دوران لاپتہ ہوچکے ہیں اور وہ حکام سے ربط میں نہیں ہیں۔ ان مریضوں نے کورونا ٹسٹ کے موقع پر غلط پتہ اور غلط فون نمبر درج کروایا جس کے نتیجہ میں میونسپل کارپوریشن حکام انکا پتہ چلانے میں ناکام ہے۔ یہ صورتحال عہدیداروں کیلئے تشویش کا باعث بن چکی ہے کیونکہ ایسے مریضوں کا کھلے عام گھومنا دوسروں کیلئے خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ سماج میں خود کو ایک موذی مرض کا شکار تصور کرسکتے ہیں۔ یہ مریض خود کو حکام کے رابطہ سے الگ ہوچکے ہیں۔ ہوم آئیسولیشن کے مریضوں کیلئے بلدیہ کی جانب سے کٹس کی تقسیم کے موقع پر پتہ چلا کہ بیشتر افراد کا ایڈریس اور فون نمبر غلط ہے۔ کمشنر جی ایچ ایم سی لوکیش کمار نے ایسے افراد سے اپیل کی کہ وہ عہدیداروں سے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ کورونا سے متاثرہ افراد کا کھلے عام بازاروں میں گھومنا دوسروں کیلئے مشکلات پیدا کرسکتا ہے۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بعض افراد نے کورونا ٹسٹ کے ساتھ ہی اپنا فون بند کرلیا یا انہوں نے مزید جانچ سے بچنے کیلئے اپنا ایڈریس غلط تحریر کروایا۔ ایک معاملہ میں 10 افراد نے یکجا طور پر ٹسٹ کروایا تھا اور ان تمام کے موبائیل بند آرہے ہیں۔ عہدیدار آدھار کارڈ پر درج پتہ کی بنیاد پر بعض مریضوں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ بعض دیگر مریضوں نے آئیسولیشن کٹس قبول کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ بلدی حکام ان کے گھر پہنچے۔ کئی افراد کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ ان کا مکان کنٹینمنٹ زون میں تبدیل کردیا جائے گا اور سرکاری ہاسپٹل منتقل کیا جاسکتا ہے ۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے کئی مریضوں نے اپنے فون نمبرس بند کرلئے ہیں۔ گریٹر حیدرآباد کے حدود میں 2000 سے زیادہ افراد کا عہدیداروں سے ربط منقطع کرنا تشویش کا باعث ہے۔ حیدرآباد میں 5681 افراد ہوم آئیسولیشن میں ہے۔ بلدیہ کی جانب سے 15000 کٹس تقسیم کئے جاچکے ہیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ بعض افراد کے آدھار کارڈ پر دیئے گئے ایڈریس غلط ثابت ہوئے اور وہ اپنا مقام تبدیل کرچکے ہیں۔