شہر میں40 فیصد عوام کا ماسک کے استعمال سے گریز

,

   

رفتار بے ڈھنگی خود کے اور دوسروں کیلئے مشکل کا باعث بن سکتی ہے ۔ شعور بیداری ضروری
حیدرآباد۔ شہر میں اب بھی 40 فیصد عوام ماسک کا استعمال نہیں کر رہے ہیں جو کہ کرونا وائرس کا شکار ہونے میں 80 فیصد تک مددگار ثابت ہوسکتا ہے ۔ ریاستی ومرکزی حکومت کے علاوہ عالمی ادارہ صحت کے جاری کردہ رہنمایانہ خطوط کے مطابق اگر ماسک کا استعمال یقینی بنایا جائے تو کورونا کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے کے 80 فیصد امکان ہوتے ہیں اور اگر کوئی کوروناو مریض ہے اور وہ ماسک کا استعمال کرتا ہے تو 70 فیصد تک وہ دوسروں کو متاثر ہونے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔ حکومت کی جانب سے ماسک کے لزوم کے باوجود شہر بالخصوص پرانے شہر میں ماسک کے استعمال میں کوتاہی پرانے شہر کے مکینوں کیلئے تکلیف کا باعث بن سکتی ہے اسی لئے ماسک کے استعمال میں کوتاہی کرنے والوں ٹوکنے اور انہیں ماسک کا استعمال کرنے پر مجبور کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔ علاوہ ازیں سڑکوں پر تھوکنے پر بھی پابندی عائد کی جاچکی ہے اور احکام جاری کئے جاچکے ہیں لیکن شہر کے کئی علاقوں میں وہی رفتار بے ڈھنگی معمول بنی ہوئی ہے اور سڑکوں پر تھوکنا‘ ماسک کا استعمال نہ کرنا ‘ سماجی فاصلہ برقرار نہ رکھنا نہ صرف خود کو بلکہ اپنے رشتہ داروں و دیگر شہریوں کو مشکلات میں مبتلاء کرنے کے مترادف ہے اس بات کا احساس نہیںکیا جا رہاہے ۔ شہریوں میں اس احساس کو پیدا کرنا ضروری ہے کہ وہ وبائی امراض کے دور میں نہ صرف اپنی بلکہ گھر والوں کی زندگی کی حفاظت کے علاوہ شہریوں کی زندگیوں کی حفاظت کیلئے ماسک کے استعمال اور سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنائیں ۔ماہر اطباء کا کہناہے کہ اگر صرف ماسک کے لزوم کے ساتھ سماجی فاصلہ کی برقراری کو یقینی بنایاجاتا ہے تو شہر میں کورونا متاثرین کی تعداد میں 50 فیصد کی کمی لائی جاسکتی ہے ۔ پرانے شہر کے علاقوں میں ماسک کے استعمال کے سلسلہ میں سروے کے مطابق 60 فیصد تک شہریوں کی جانب سے ماسک استعمال کیا جارہا ہے اور 40 فیصد شہری اب بھی ماسک استعمال نہیں کر رہے ہیں اور جو 60 فیصد شہری ماسک کا استعمال کر رہے ہیں ان میں 70 فیصد ایسے ہیں جو سنجیدگی کے ساتھ ماسک کا استعمال یقینی بنا رہے ہیںجبکہ مابقی شہریوں کی جانب سے ماسک کے لزوم کے سبب ہی ماسک کا استعمال کیا جا رہاہے ۔