طالبان کی ملک بھر میں مظاہرو ں پر پابندی، پولیس کا نام ’شرطہ‘ رکھا

   

کابل : 23 اگست ( یو این آئی ) ہرات میں ڈریس کوڈ کی خلاف ورزی پر گرفتار خواتین کی رہائی کیلیے احتجاج کیا جا رہا تھا۔افغان طالبان نے نئے قانونِ شرطہ کے تحت افغانستان میں ہر قسم کے مظاہروں پر ملک گیر پابندی عائد کردی ہے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کی وزارتِ انصاف نے ہفتے کے روز قانون جاری کیا جسے سپریم لیڈر ہبتہ اللہ اخوندزادہ کی منظوری حاصل ہے۔اس نئے قانون کی شق 50 میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پر کسی بھی قسم کا احتجاجی مظاہرہ ممنوع ہوگا۔قانون میں اس پابندی کے دائرہ کار یا اس کی خلاف ورزی کی صورت میں دی جانے والی مخصوص سزا کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔طالبان نے نئے قانون میں پولیس کے لیے ’’شرطہ‘‘ کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ قانون میں پولیس کے مختلف شعبوں کے فرائض، اختیارات اور ذمہ داریوں کا تعین کیا گیا ہے۔خیال رہے کہ افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت مخالف احتجاج اور عوامی مظاہرے پہلے ہی انتہائی محدود رہے ہیں۔نئے قانون کے ذریعے پابندی کو باقاعدہ قانونی شکل دی گئی ہے جس سے ملک میں اظہارِ رائے اور پرامن اجتماع کی آزادیوں پر مزید قدغن لگنے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔قانونِ شرطہ میں زیرِ حراست افراد اور ملزمان کے ساتھ پولیس کے رویے سے متعلق بھی احکامات شامل ہیں۔پولیس اہلکاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ گرفتاری کے دوران ایسے اقدامات سے گریز کیا جائے جن سے ملزم یا زیرِ حراست شخص کی جسمانی صحت یا عزتِ نفس کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو۔قانون کے مطابق کسی قیدی یا ملزم کو عدالتی حکم اور قانونی جواز کے بغیر لاٹھی، کوڑے، کیبل یا کسی دوسرے ذریعے سے مارنے یا جسمانی تشدد کا نشانہ بنانے کی اجازت نہیں ہوگی۔