طب یونانی کی بقاء اور تحفظ کیلئے بھرپور تعاون کا اعلان

   

نظامیہ طبی کالج اور شفاخانہ کے مسائل حل کرنے کا بھی وعدہ، بی یو ایم ایس کی تمام نشستوں کو پُر کروانے کا تیقن، مشاورتی اجلاس سے جناب عامر علی خان ایم ایل سی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 23 نومبر (سیاست نیوز) روزنامہ سیاست نے ہمیشہ طب یونانی کے فروغ کو اہمیت دی اور اس نظام طب سے وابستہ ماہرین کی حوصلہ افزائی کی۔ آج یقیناً طب یونانی کی بقاء کو خطرہ لاحق ہے اور اس کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے ہم سب کو آگے آنا چاہئے۔ جس طرح ہمیں اپنے مفادات کی فکر ہوتی ہے اسی طرح ہم میں طب یونانی کی بقاء اور اس کے مفادات کے تحفظ کی فکر ہونی چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار نیوزایڈیٹر سیاست و رکن قانون ساز کونسل جناب عامر علی خاں نے حکماء و اطباء اور طب یونانی کی ہمدرد شخصیتوں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس میں کیا جو طب یونانی کو درپیش مسائل نظامیہ طبی شفاخانہ و گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج کی حالت زار، وہ بی یو ایم ایس میں داخلوں وغیرہ کے بارے میں غور کرنے کیلئے روزنامہ سیاست کے آڈیٹوریم میں منعقد کیا گیا تھا۔ اپنا سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے جناب عامر علی خان نے یہ بھی کہا کہ کئی ایسے امراض ہیں بالخصوص امراض کہنہ جس کا یونانی نظام طب میں بہترین علاج ہے لیکن افسوس اس نظام طب سے تعلق رکھنے والے ماہرین اسے عام کرنے سے قاصر ہیں۔ اس کی کیا وجوہات ہیں میں اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اطباء کو مشورہ دیا کہ وہ یونانی (گریگ) میڈیسن، کے نام سے نمائش کا اہتمام کریں۔ اس کیلئے سیاست آڈیٹوریم میں مخصوص امراض کے ماہرین اسٹالس لگا کر نہ صرف مریضوں کی تشخیص کرسکتے ہیں بلکہ ادویات بھی تجویز کرسکتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے فالج، شوگر، بی پی، موٹاپا، تھائیرائیڈ، بانجھ پن، مردانہ کمزوری جیسے امراض کے حوالے دیئے اور یہ بھی کہا کہ طب یونانی کے ماہرین نئی قومی تعلیمی پالیسی کے تحت شہر اور دیہی علاقوں میں ڈیمڈ یونیورسٹی قائم کرسکتے ہیں۔ اس کیلئے شہری حدود میں تین ایکر اراضی اور دیہی علاقوں میں 10 ایکر اراضی کی شرط ہے۔ جہاں تک طب یونانی اور نظامیہ طبی شفاخانہ چارمینار کا سوال ہے، اسے اقلیتی ڈپارٹمنٹ کے حوالے کیا جاتا ہے تو اس کے بہتر نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ جناب عامر علی خان کے مطابق وہ یونانی کے مسائل کے حل کیلئے حکومت اور سرکاری اداروں سے ضرور نمائندگی کریں گے۔ اس موقع پر ڈاکٹر اے اے خان صدر آل انڈیا یونانی طبی کانگریس کے صدر، ڈاکٹر محمد رفیع حیدر شکیب صدر یونانی میڈیکل اسوسی ایشن، ڈاکٹر فیض احمد صدر یونانی جوائنٹ ایکشن کمیٹی، ڈاکٹر شوکت علی علی کینسر ریسرچ سنٹر، ڈاکٹر سید شاہد علی، حکیم محمد حسام الدین طلعت (معتمد آل انڈیا یونانی طبی کانگریس)، ڈاکٹر سمیع الدین متین، ڈاکٹر محمد جہانگیر، ڈاکٹر مجیب، ڈاکٹر عقیل احمد، ڈاکٹر امت الطیبہ، محترمہ شہانہ بیگم، ڈاکٹر ارشد علی، ڈاکٹر شعیب، ڈاکٹر ایم جی اے صدیقی، ڈاکٹر مرزا صفی اللہ بیگ، حکیم اطہر، حکیم الطاف، حکیم فراست، حکیم عبدالرحیم شاہ، حکیم شکیل، حکیم انور، حکیم فضل، حکیم عبداللہ، محمد خورشید، ڈاکٹر فوزیہ شبانہ، حکیم انور پاشاہ، ڈاکٹر سید جمیل حسینی، محمد امجد، پروفیسر ڈاکٹر محمد سراج الحسین سید واحد، غلام جیلانی انصاری اور سلیم اللہ انصاری و دیگر موجود تھے۔ ڈاکٹر اے اے خان نے جناب عامر علی خان کو بتایا کہ ماضی میں بی یو ایم ایس داخلے کیلئے دسویں جماعت میں اردو ایک مضمون رہنا یا انٹرمیڈیٹ میں اردو ؍ عربی ایک مضمون پڑھنا ضروری تھا لیکن اس شرط کو ہٹادیا گیا نتیجہ میں جو امیدوار تحفظات کے پیش نظر داخلے حاصل کررہے ہیں وہ عین وقت پر رپورٹ نہیں کررہے ہیں۔ چنانچہ گزشتہ سال بی یو ایم ایس کی 19 نشستیں مخلوعہ رہ گئیں اور امیدواروں کو بھاری کا نقصان ہوا اس مرتبہ 30 سے زائد نشستیں مخلوعہ ہیں۔ جناب عامر علی خان کو یہ بھی بتایا گیا کہ گرلز اور بوائز ہاسٹلس نظامی طبی شفاخانہ ؍ گورنمنٹ نظامیہ طبی کالج میں تعمیر کئے جائیں تو کئی ایک مشکلات سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ شفاخانہ کی عمارت بوسیدہ ہوگئی اس کی تزئین نو کی بھی ضرورت ہے جبکہ گورنمنٹ یونانی فارمیسی کاٹے دھن میں عملہ ناکافی ہے وہاں 64 عہدے منظور کئے گئے ہیں لیکن صرف 21 ارکان عملہ ہی موجود ہیں جس سے ادویات کی تیاری میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی نظامیہ طبی شفاخانہ میں بھی نرسس، پیرامیڈیکل اسٹاف اور وارڈ بوائز کی بے شمار جائیدادیں مخلوعہ ہیں۔ اس وفد نے سرنظامت جنگ یونانی ہاسپٹل نارائن گوڑہ کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ 120 نشست والے اس ہاسپٹل کیلئے قیمتی اراضی وقف کی گئی لیکن متعصب عہدیداروں نے اسے گودام میں تبدیل کردیا۔ اس موقع پر محمد ریاض احمد اور سید خالد محی الدین اسد نے جناب عامر علی خان کو بی یو ایم ایس داخلوں میں ہونے والے رکاوٹوں اور اولیائے طلبہ میں پائی جانے والی تشویش سے واقف کروایا۔