طلباء کیلئے میلوڈی نہیں چلے گی

   

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے
لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں
دہلی کے جنتر منتر سے شروع ہوا طلباء کا احتجاج قومی سطح کی تحریک میں تبدیل ہونے لگا ہے اور ملک کا شائد ہی کوئی شہر ایسا ہو جہاں یہ مظاہرہ نہیں کئے جا رہے ہوں ۔ خاص طور پر 20 جولائی کے جنتر منتر سے پارلیمنٹ تک مارچ کے دوران طلباء پر جو ظلم کے پہاڑ توڑے گئے ہیں ان کو بے تحاشہ مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا ہے اور ان کے سر اور پیر توڑے گئے ہیں اس کے بعد سے ایسا لگتا ہے کہ طلباء کا احتجاج کمزور پڑنے کی بجائے مزید تقویت پا گیا ہے اور اب طلباء کی تائید میں وہ لوگ بھی میدان میں کودنے لگے ہیں جو شائد اس احتجاج کا حصہ بننا ابتداء میں پسند نہیں کر رہے تھے یا خود کو لا تعلق رکھے ہوئے تھے ۔ مسلسل ایک ماہ تک طلباء کے احتجاج اور ان تمام کی بھوک ہڑتال کو نظرانداز کرنے کے بعد مرکز کو بھی اب شائد صورتحال کی سنگینی کا احساس ہونے لگا ہے اسی لئے اب طلباء کو چاکلیٹ دینے کی کوششیںشروع ہوگئی ہیں۔ جنتر منتر تک مارچ کے دوران جس طرح سے طلباء کے نمائندوں کو بات چیت کیلئے مدعو کرتے ہوئے ان کا وقت ضائع کیا گیا تھا اس کے بعد اب بھی کوئی ٹھوس اقدامات کرنے اور طلباء کے مطالبہ کے مطابق وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو مستعفی کروانے کی بجائے ایک بار پھر سے بات چیت کا بہانہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ ملک کے وزیر اعظم کو ایک ماہ سے زائد کا وقت گذرنے کے بعد طلباء کے احتجاج کا اندازہ ہوا ہے اور انہوں نے پھر سے جملے بازیاںشروع کردیں کہ طلباء اور نوجوانوں کا مستقبل ہی ان کیلئے سب سے اہمیت کا حامل ہے ۔ انہوں نے نیٹ پیپر لیک کے مسئلہ پر مقدمات کی جلد یکسوئی کیلئے فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان بھی کیا ہے ۔ واقعی اگر وزیر اعظم کیلئے طلباء کا مستقبل اور ان کی جان کی اہمیت ہے تو پھر سب سے پہلے وزیر تعلیم کو مستعفی کروانا چاہئے تھا ۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام وہ میلوڈی ہے جو شائد طلباء قبول نہیںکریں گے اور نہ ہی یہ کوئی مسئلہ کا حل ہے ۔ اس اعلان کے ذریعہ طلباء کے احتجاج کو روکنے یا اس کی شدت کو کم کرنے کی کوشش کامیاب نہیںہوسکتی ۔
ایک ماہ تک طلباء و نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کرنے اور ان کے احتجاج پر لاٹھیاں برسانے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی نے جب کسی ردعمل کا اظہار بھی کیا تو وہ توقع کے مطابق ہرگز نہیں تھا اور نہ ہی طلباء کے مسائل کو حل کرنے کی سمت کسی اہم پیشرفت کا پیش خیمہ ہے ۔ فاسٹ ٹریک عدالتوں کا قیام مسئلہ کا کوئی حل نہیں ہے اور نہ ہی اس کے ذریعہ پرچہ لیک ہونے کا سلسلہ رک سکتا ہے ۔ خاص بات یہ ہے کہ آج ہی سی بی آئی نے 2024 کے نیٹ پیپر لیک کے ملزم کو کلین چٹ دیدی ہے اور کہا کہ اس کے خلاف کوئی ثبوت ہی دستیاب نہیں ہوا ہے ۔ یہ طلباء کے ساتھ کسی مذاق سے کم نہیں ہے ۔ اس کے علاوہ پیپر لیک معاملہ میں ان افراد پر شبہ ہے اور جو ملزمین ہیں ان کا راست یا بالواسطہ طور پر بی جے پی سے ہی تعلق بتایا گیا ہے ۔ ایسے میں جب تک وزیر تعلیم کو ذمہ دار ٹہراتے ہوئے ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور انہیں عہدہ سے علیحدہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک حکومت کی سنجیدگی پر سوالیہ نشان برقرار رہیں گے ۔ ملک کے عام کیلئے جس طرح سے جملہ بازیاں کی گئی تھیں اور پھر انہیں انتخابی جملہ قرار دیتے ہوئے بری الذمہ ہونے کی کوشش کی گئی تھی اس طرح کے جملے طلباء برادری کو مطمئن نہیں کرسکتے اور نہ ہی ان کے ذریعہ طلباء اور نوجوانوں کے مسائل کے تعلق سے حکومت کی سنجیدگی کا پتہ چلتا ہے بلکہ اس سے یہی تاثر ملتا ہے کہ حکومت ٹال مٹول کی پالیسی پر ہی عمل پیرا ہے ۔
حکومت کو طلباء اورنوجوانوں کے مستقبل سے تعلق رکھنے والے اس مسئلہ پر ٹال مٹول کی پالیسی ختم کرنی چاہئے ۔ واقعتا اور سنجیدگی کے ساتھ اس مسئلہ کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے اور وزیر تعلیم کو عہدہ سے علیحدہ کیا جانا چاہئے ۔ جو احتجاج جنتر منتر سے شروع ہوا تھا وہ سارے ملک میں پھیل گیا ہے اور یہ مزید شدت اختیار کرسکتا ہے ۔ طلباء و نوجوانوںکے مسائل کو زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر اہمیت دی جانی چاہئے ۔ اس کے بغیر طلباء برادری شائد حکومت کی بات سننے اور سمجھنے کو تیار نہیں ہو پائے گی ۔