حساس مسئلہ سے میڈیا ‘ اپوزیشن اور ملک کے عوام کی توجہ مبذول ۔ یو پی کی لا اینڈ آرڈر صورتحال پر مباحث
حیدرآباد۔16اپریل(سیاست نیوز) ملک میں جب کبھی بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت یا پارٹی کے سرکردہ قائدین کو عوامی مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو اسی وقت کچھ ایسے حالات پیدا ہوجاتے ہیں جو میڈیا میں سرخیوں کو تبدیل کردیتے ہیں۔ سابق گورنر جموں و کشمیر ستیہ پال سنگھ کے بھیانک انکشافات اور اس سے پیدا شدہ ماحول کے دوران ملک بھر میںوزیر اعظم نریندر مودی‘ وزیر داخلہ امیت شاہ کے علاوہ پلوامہ حملہ کے متعلق متعدد سوالات اٹھائے جانے لگے تھے کہ اندرون 48 گھنٹے حکومت نے میڈیا سے ستیہ پال سنگھ کو غائب کرنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ جب کبھی بی جے پی یا بی جے پی قیادت مشکل حالات کا شکار ہوتی ہے تو ایسی صورت میں جو حالات رونما ہوتے ہیں وہ ہمیشہ اتفاق نہیں ہوسکتے کیونکہ 2014 عام انتخابات سے قبل پلوامہ حملہ ہو یا اڈانی سے متعلق سوالات کے دوران راہول گاندھی کے خلاف کاروائی اور انہیں لوک سبھا کی رکنیت سے معطل کئے جانے کا معاملہ ہو۔ اسی طرح گذشتہ شب الہ آباد میں عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد پر ایک ایسے وقت حملہ کیا گیا جب ستیہ پال سنگھ کے سنگین انکشافات کے متعلق میڈیا سوال کرنے پر مجبور ہوچکا تھا کیونکہ ستیہ پال سنگھ کے انکشافات کو نظرانداز کرنا کسی بھی میڈیا ادارہ کے بس کی بات نہیں تھی لیکن عتیق احمد و اشرف احمد کا پولیس اور میڈیا کی موجودگی میں گولی مار کر قتل کر دیئے جانے کے بعد اترپردیش میں ہی نہیں بلکہ ملک بھر میں میڈیا چینلس و اداروں کی سرخیاں تبدیل ہوگئیں اور ستیہ پال سنگھ کے انکشافات پر سوالات پر خاموشی اختیار کی جانے لگی اور چیخ چیخ کر اترپردیش کے لاء اینڈ آرڈر پر اس قدر ہنگامہ کیا جا رہاہے کہ ستیہ پال سنگھ کے انکشافات سے اپوزیشن کے ہاتھ آیا اہم مسئلہ سرخیو ںسے غائب ہوگیا اور اب خود اپوزیشن جماعتیں بھی اترپردیش میں قانون کی دھجیاں اڑائی جانے کے معاملہ کو اٹھانے میں مصروف ہوگئی ہے۔عتیق احمد کے بیٹے اسد احمد اور اس کے دوست غلام کو دو یوم قبل پولیس انکاؤنٹر میں ہلاک کئے جانے کا دعویٰ کیا گیا تھا اور گذشتہ شب عتیق احمد اور اس کے بھائی اشرف احمد کو رات 10بجے دواخانہ میں تشخیص کیلئے لے جانے کا دعویٰ کیا گیا جہاں تین نوجوانوں نے انہیں قریب سے گولی مار دی ۔ عتیق احمد اور ان کے بھائی اشرف احمد پر گولی چلائے جانے کے ساتھ ہی خبروں کا رخ اور نظریہ ہی تبدیل ہوگیا کیونکہ اس حملہ سے قبل ستیہ پال سنگھ کے انکشافات پر بات کی جا رہی تھی لیکن عتیق کے قتل کے ساتھ ہی ملک میں نفرت ‘ حملہ آوروں کی جانب سے ’جئے شری رام‘ کے نعرے لگائے جانے اور قانون کی بالا دستی کو ختم کرنے کی کوشش کی باتیں ہونے لگی۔م