دنیا میں 9 انتہائی عصری ہیلی کاپٹرس کی شناخت، ہندوستان کے پاس 500 کیلو میٹر تک وار کرنے کی صلاحیت موجود
حیدرآباد۔24۔ ستمبر (سیاست نیوز) دفاعی طاقت میں اضافہ کے لئے امریکہ ، روس ، چین اور ہندوستان جیسے ممالک کی سرگرمیوں سے ہر کوئی واقف ہے۔ ملک کو دشمن سے جنگ کا سامنا بھلے ہی نہ ہو لیکن یہ ممالک اپنی فوجی طاقت میں اضافہ کو ترجیح دیتے ہیں۔ فضائی کارروائیوں کے معاملہ میں فوجی ہیلی کاپٹرس کا اہم رول ہوتا ہے جو دشمن کے ٹھکانوں کو کم فاصلہ سے بآسانی نشانہ بناسکتے ہیں۔ عصری ٹکنالوجی سے آراستہ اور تیز رفتار جنگی ہیلی کاپٹرس کے معاملہ میں امریکہ دنیا میں سرفہرست ہے۔ تیز رفتار جنگی ہیلی کاپٹرس کی صلاحیت رکھنے والے 9 ممالک کی نشاندہی کی گئی جن میں ایسے ہیلی کاپٹرس کو شمار کیا گیا ہے جو نہ صرف برق رفتاری بلکہ دور تک نشانہ پر وار کرسکتے ہیں۔ امریکہ کے پاس 300 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی صلاحیت سے اڑنے والا ہیلی کاپٹر بوئنگ AH-64E اپاچی گارڈین موجود ہے جو 480 کیلو میٹر تک دشمن کے نشانہ پر وار کرسکتا ہے۔ اس ہیلی کاپٹر کا شمار دنیا کے انتہائی عصری ہیلی کاپٹرس میں ہوتا ہے۔ امریکہ کے پاس بیل AH-1Z وائپر ہیلی کاپٹر 425 کیلو میٹر کے فاصلہ تک دشمن کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ روس کا کاموف KA-52 ایلیگیٹر ہیلی کاپٹر 350 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فاصلہ طئے کرتے ہوئے 460 کیلو میٹر دوری سے دشمن کو نشانہ بناسکتا ہے۔ روس کے پاس ایک اور ہیلی کاپٹر ہے جو 320 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فاصلہ طئے کرتے ہوئے 435 کیلو میٹر سے وار کرسکتا ہے۔ تیز رفتار اور فاصلہ سے وار کرنے کی صلاحیت کا ایک ہیلی کاپٹر ہندوستان میں بھی موجود ہے۔ ہندوستان کے پاس HAL پراچنڈ ہیلی کاپٹر ہے جو 268 کیلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے فاصلہ طئے کرتے ہوئے 500 کیلو میٹر تک نشانہ لگاسکتا ہے۔ چین ، ترکی ، فرانس اور جرمنی کے پاس بھی 500 تا 800 کیلو میٹر تک مار کرنے کی صلاحیت والے جنگی ہیلی کاپٹرس موجود ہیں۔ جنگ کی صورت میں جنگی طیاروں کی مدد کیلئے عام طور پر فوجی ہیلی کاپٹرس کا استعمال کیا جاتا ہے جو زمینی فوج کے تحفظ میں اہم رول ادا کرتے ہیں۔1/k/m/b