٭ نہ صرف قومی پرچم بلکہ قومی علامت بھی حیدرآباد کی بیٹی کا شاہکار
٭ 14 اگست 1947 کی نصف شب کو لہرائے گئے پہلے پرچم کی سچی داستان
٭ آزادی کے 79 سال بعد بھی اعتراف خدمت کا انتظار
محمد نعیم وجاہت
تاریخ کا المیہ یہ نہیں کہ لوگ بھول جاتے ہیں بلکہ المیہ یہ ہے کہ تاریخ لکھنے والے بعض اوقات سچائی کو دفن کردیتے ہیں جب بھی 15 اگست یا 26 جنوری کو آزاد ہندوستان کے آسمان پر نیلگوں فضاؤں پر ’’ترنگا‘‘ لہراتا ہے تو دنیا بھر میں مقیم ہندوستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے۔ زعفرانی (کیسریا) سفید اور ہری پٹی کے درمیان نیلا اشوک چکر ہماری جمہوریت، کثرت میں وحدت، امن اور مسلسل ارتقاء کی علامت ہے لیکن کیا ہماری موجودہ نسل بالخصوص حیدرآباد کے نوجوان اس سنسنی خیز اور تاریخی حقیقت سے واقف ہیں کہ آزاد ہندوستان کے اس قومی پرچم کو موجودہ تکنیکی و بصری شکل (Final Visual Design) دینے والی اور اس میں چرخہ کی جگہ اشوک چکر شامل کرنے والی شخصیت حیدرآباد کی ایک عظیم باصلاحیت اور نامور بیٹی ثریا طیب جی تھیں۔ آزادی کے 79 سال بعد بھی نصابی کتابوں، سرکاری تقریبات میں اس حقیقت کو چھپانے کا عمل جاری ہے جبکہ ارباب اقتدار کی خاموشی نے اس حیدرآبادی خاتون کے کارنامے کو تاریخ کے تاریک صفحات میں دھکیل دیا ہے۔ آیئے اس آرٹیکل میں تاریخ کے سنہری اوراق کو پلٹتے ہیں اور ثریا طیب جی کی بے مثل خدمات ان کے علمی و تاریخی خاندان اور قوم پرستی کے احسانات کا احاطہ کرتے ہیں۔ آزادی کا وقت جیسے جیسے قریب آرہا تھا ہندوستانی آئین ساز اسمبلی کے سامنے سب سے اہم سوال یہ تھا کہ نو زائیدہ ملک کا قومی پرچم کیسا ہو؟ اس سے قبل انڈین نیشنل کانگریس کا سواراج پرچم (1931) استعمال ہو رہا تھا جس کے وسط میں گاندھی جی کا چرخہ تھا لیکن پنڈت جواہر لال نہرو، ڈاکٹر امبیڈکر اور آئین ساز اسمبلی کی پرچم کمیٹی کا ماننا تھا کہ آزاد ہندوستان کا پرچم کسی ایک سیاسی جماعت کے نشان تک محدود نہیں ہونا چاہئے بلکہ اس میں ایک ایسا فلسفیانہ اور مذہبی لحاظ سے غیر جانبدار نشان ہونا چاہئے جو پورے ہندوستان کی قدیم تہذیب، عدل اور اتحاد کی نمائندگی کرسکے۔ اس نازک اور تاریخی موڑ پر حیدرآباد کی جرأتمند اور فنکار خاتون ثریا طیب جی اور ان کے شوہر بدر الدین طیب جی (ICS) نے ایک تاریخ ساز تجویز پیش کی۔ انہوں نے تجویز دیا کہ سمراٹ اشوک کے سارناتھ ستون (SARNATH Lion Capial) سے 24 تیلیوں والے دھرم چکر (اشوک چکر) کو چرخہ کی جگہ سفید پٹی کے درمیان میں شامل کیا جائے۔ اشوک چکر عدل، ترقی اور ہندوستان کے سنہری ماضی کی علامات تھا جسے تمام مذاہب کے لوگ یکساں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ ثریا طیب جی صرف خاکہ نگار نہیں تھیں بلکہ انہوں نے پرچم کے رنگوں کے مخصوص شیڈز، سائز کی تناسبات اور کپڑے کے معیار کو خود طئے کیا۔ 14 اگست 1947 کی آدھی رات کو آئین ساز اسمبلی کے تاریخی اجلاس میں جو ریشمی اور کھادی کا پہلا ترنگا لہرایا گیا اور جس پرچم کو پنڈت نہرو کی گاڑی پر سب سے پہلے سجایا گیا وہ ترانگا خود ثریا طیب جی نے اپنی نگرانی میں دہلی اور حیدرآبادمیں تیار کروایا تھا۔ اکثر لوگ اس بات سے بھی ناواقف ہیں کہ آزاد ہندوستان کی قومی علامت (National Emblem) یعنی چار شیروں ولا نشان (Lion Capital of Ashoka) تیار کرنے میں بھی ثریا طیب جی کا کلیدی کردار تھا۔ سابق چیف منسٹر دہلی شیلا ڈکشٹ اپنی خود نوشت “Citizen Delhi: My Times My Life” میں اس حقیقت کا انکشاف کیا ہے کہ آزادی سے چند ماہ قبل جب ہندوستان کے لئے ایک نئی قومی علامت کی ضرورت محسوس ہوئی تو پنڈت نہرو نے بدر الدین طیب جی کو یہ کام سونپا جب آرٹ اسکولوں سے آنے والے زیادہ تر ڈیزائن برطانوی شاہی نشانات سے متاثر تھے تو ثریا طیب جی نے ہی سارناتھ کے اشوک ستون کے شیروں اور چکر کے ملاپ کا گرافک خاکہ اپنے ہاتھوں سے بنایا جسے بعد میں وائسرائے ہاوز کے پریس میں چھاپا گیا اور وہ ہندوستان کا باضابطہ قومی نشان بنا۔ ثریا طیب جی کی شاندار شخصیت اور فنکارانہ صلاحیتیں اتفاقیہ نہیں تھیں بلکہ ان کی رگوں میں حیدرآباد کی علم پرور اور روشن خیال تہذیب کا خون دوڑ رہا تھا۔ وہ 1919 میں حیدرآباد میں پیدا ہوئی وہ سر اکبر حیدری (سابق وزیر اعظم ریاست حیدرآباد) کی نواسی تھیں اور لیڈی آمینہ حیدری کی پوتی تھیں جنہوں نے حیدرآباد میں مسلم خواتین کی تعلیم کے لئے انقلاب برپا کیا۔ ثریا طیب جی ایک بہترین مصورہ تھیں ان کی
بنائی ہوئی پینٹگز لندن کے مشہور (Burlington House London) اور جکارتہ کی بین الاقوامی نمائشوں میں پیش کی گئی۔ ان کی بیٹی اور مصروف سماجی کارکن لیلا طیب جی کے مطابق ان کی والدہ ایک آزاد خیال باشعور اور انتہائی باوقار خاتون تھیں جو کسی روایتی سانچے میں قید نہیں تھیں۔ یہ ہندوستان کا صحافتی اور تاریخی المیہ ہے کہ ثریا طیب جی کی اس عظیم خدمت کا ذکر تعلیمی نصاب میں تقریباً معدوم کردیا گیا۔ عموماً یہ کریڈٹ صرف ’’پنگالی وینکیا‘‘ کے نام سے جوڑ دیا جاتا ہے۔ یہ سچ ہے کہ پنگالی وینکیا نے 1921 میں کانگریس پارٹی کے چرخے والا سوراجم پرچم بنایا تھا لیکن آزاد ہندوستان کے موجودہ جمہوری پرچم (اشوک چکر کے ساتھ) اور قومی علامت کا فائنل خاکہ بنانے کا کام ثریا طیب جی کی ہی مرہون منت تھا۔ برطانوی مورخ (Trevor Royle) نے اپنی کتاب “The Last Days of the Raj” میں صراحت کے ساتھ لکھا ہے۔ ہندوستان کی تاریخ کے ایک خوبصورت نقاد کے تحت ہندوستان کے قومی پرچم کی حتمی شکل ایک مسلم خاتون ثریا طیب جی اور ان کے شوہر کی کاوشوں کا نتیجہ تھی جس کے پہلو میں اشوک چکر شامل کرکے گاندھی جی کو بھی راضی کیا گیا تھا۔ حیدرآباد کے ممتاز مورخ کیپٹن اہل پانڈورنگا ریڈی نے بھی اپنے تحقیقاتی مقالوں میں ثریا طیب جی کے دستخط شدہ اور آئین ساز اسمبلی کے دستاویزات کا حوالہ دیتے ہوئے اس سچائی کو ثابت کیا ہے۔ ثریا طیب جی کی کہانی صرف ماضی کا ایک واقعہ نہیں ہے بلکہ یہ حیدرآباد کی روشن خیال اور مشترکہ تہذیب کا وہ تابناک پیغام ہے جو یہ ثابت کرتا ہے کہ اس ملک کی تعمیر و ترقی، آئین اور پرچم میں ہر مذہب بالخصوص مسلمانوں اور خواتین کا برابر کا خون پسینہ شامل ہے۔ نئی نسل کو چاہئے کہ وہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمس کا استعمال کرتے ہوئے تاریخ کے ان فراموش کردیئے گئے ستارے کی چمک دوبارہ دنیا کے سامنے لائیں تاکہ حیدرآباد کا نام اور ثریا طیب جی کا وقار ہمیشہ کے لئے تاریخ کے آسمان پر ترنگے کی طرح لہراتا رہے۔ اسی طرح ثریا طیب جی کو نہ صرف بھارت رتن اعزاز سے نوازا جانا چاہئے بلکہ ان کے نام پر تعلیمی ادارے قائم کئے جانے چاہئے، تعلیمی نصاب میں ان کے اسباق شامل کئے جانے چاہئے۔