عوامی مسائل اور حکومت کی ترجیحات

   

اس کی مجبوری کو کچھ وجہ یقینا ہوگی
وہ جو وعدہ سے مکرتا ہے مکر جانے دے
ہمارے ملک ہندوستان میں آج کئی مسائل درپیش ہیں۔ سماج کے تقریبا تمام ہی طبقات کو کسی نہ کسی مسئلہ کا سامنا ہے اور وہ اس کی وجہ سے مشکلات اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔ آئے دن نت نئے مسائل ہمارے سامنے آتے چلے جارہے ہیں اور کئی مسائل ایسے بھی جن کا کوئی حل دکھائی نہیں دے رہا ہے یا کم از کم ان مسائل کی یکسوئی کیلئے سنجیدہ کوششیں نہیں کی جا رہی ہیں۔ مرکزی حکومت کا جہاں تک سوال ہے تو حکومت کی جانب سے مسائل کی یکسوئی کرنے اور عوام کو راحت اور سہولیات فراہم کرنے کی بجائے حکومت سماج میں دوریاں اور منافرت پھیلانے کے ایجنڈہ پر کام کر رہی ہے ۔ حکومت اپنے اقتدار کو بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے اور اسے عوامی مسائل کی کوئی فکر لاحق نہیں رہ گئی ہے ۔ بی جے پی برسر اقتدار جماعت ہونے کے ناطے ملک کے عوام کے سامنے جوابدہ ہے ۔ اسے عوامی مسائل پر ایک سنجیدہ ماحول میں جدوجہد کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ حکومت کی توجہ دہانی بھی بی جے پی کے فرائض میںشامل ہے تاہم بی جے پی اس جانب توجہ دینے کی بجائے سماج میں ایسے مسائل کو ہوا دینے کی کوشش کر رہی ہے جو اختلافی نوعیت کے ہیں اور جن کے ذریعہ سماج میں یکجہتی اور اتحاد کا ماحول متاثر ہوسکتا ہے ۔ آج ملک میں نوجوان طبقہ سب سے زیادہ بپھرا ہوا ہے ۔ اس طبقہ میں شدید ناراضگی اور برہمی پائی جاتی ہے ۔ تعلیم کا شعبہ انتہائی مسائل کا شکار ہے ۔ تعلیم سماج کی بنیادی ضرورت اور مستقبل کی تعمیر کا ذریعہ ہے اس کے باوجود تعلیم جیسے شعبہ پر بجٹ انتہائی کم رکھا گیا ہے بلکہ تعلیم کے شعبہ سے متعلق فنڈز کو کم بھی کیا جا رہا ہے اور اس میں بھی سیاست کرتے ہوئے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ طلباء برادری کو امتحان تحریر کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں کیونکہ پرچے مسلسل لیک ہونے لگے ہیں۔ امتحان تحریر کرنے کے بعد یہ یقین نہیں ہوتا کہ اس کے نتائج آئیں گے ۔ یہ یقین نہیں ہوتا کہ نتائج ٹھیک اور بہتر بھی رہیں گے یا نہیں۔ یہ صورتحال انتہائی افسوسناک ہی کہی جاسکتی ہے ۔
اسی طرح روزگار کے مسائل ہیں۔ ملک میں نوجوان بیروزگاروں کی تعداد سب سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ بیروزگاری کی شرح سب سے زیادہ ہوگئی ہے ۔ تعلیم اگر کسی طرح مکمل ہوبھی جائے اور ڈگری مل بھی جائے تب بھی ملازمت کا کوئی بھروسہ نہیں ہے ۔ حکومت کی جانب سے بھرتیوں پر غیر معلنہ امتناع کی صورتحال دکھائی دے رہی ہے ۔ خانگی شعبہ میں ملازمتوں میں تخفیف ہو رہی ہے ۔ نئی بھرتیاں اور تقررات ٹھپ ہو کر رہ گئے ہیں۔ سماج میں تعلیم اور روزگار جیسے بنیادی مسائل پر بے چینی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ نوجوانوں کو ان دونوں مسائل پر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پر رہا ہے ۔ مہنگائی کی سطح بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے ۔ روز مرہ کے استعمال کی اشیاء مہنگی ہونے لگی ہیں ۔ عوام کو دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہوگیا ہے ۔ دالیں ‘ چاول ‘ آٹا ‘ دودھ ‘ ادویات ہر شئے مہنگی ہوگئی ہے اور اب تو شکر کی قیمتیں بھی آسمان کو چھونے لگی ہیں اور افسوس تو اس بات کا ہے کہ بہار کی بی جے پی حکومت کے ایک وزیر کہتے ہیں کہ چونکہ کئی لوگ ذیابطیس کا شکار ہونے لگے ہیں اس لئے شکر کی قیمتوں میںا ضافہ ہونا اچھی بات ہے ۔ سماج میں خواتین کی سلامتی ایک مسئلہ بنی ہوئی ہے۔ خواتین کے ساتھ مظالم کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔ دلت اور پچھڑے ہوئے طبقات کے لوگوں کے ساتھ امتیاز کا سلسلہ جاری ہے ۔ ایک قومی پارٹی کے صدر کو تک دلت ہونے کا کھلے عام احساس دلایا جا رہا ہے ۔ ملک میں اسکولس انتہائی ابتر اور ناقص ترین صورتحال کا شکار ہیں۔ کہیں اسکول نہیں تو کہیں کلاس نہیں ‘ کہیں پینے کا پانی نہیں تو کہیں بیت الخلاء کی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔
اس طرح کے اور بھی بے شمار مسائل ہیں جن پر حکومت کو فوری توجہ دینے اور صورتحال کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے ۔ تاہم برسر اقتدار جماعت نزاعی اور اختلافی مسائل کو ہوا دینے کی کوششوں ہی میںمصروف ہے ۔ ایسے مسائل چھیڑے جا رہے ہیں جن کا ملک اور ملک کے عوام کی ترقی سے راست کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ ان مسائل سے بی جے پی کی سیاست کو چمکانے میں مدد مل سکتی ہے ۔ حکومت کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج ملک کا نوجوان اور دوسرے طبقات بھی جاگ رہے ہیں اور وہ اب بہکاوے کی سیاست کا شکار نہیں ہونگے بلکہ مسائل کی یکسوئی اور ان کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات چاہتے ہیں۔
تلنگانہ میں بارش کی کمی
ریاست تلنگانہ میں قحط سالی جیسی صورتحال پیدا ہونے لگی ہے ۔ موسمی تبدیلیوں کے اثرات کی وجہ سے جاریہ بارش میں کمی آئی ہے ۔ تاحال معمول کے مطابق بارش نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے کئی مسائل پیدا ہو رہے ہیں۔ کسان برادری سب سے زیادہ متفکر ہے اور اس کو پریشانیوں کا سامنا ہے ۔ عوام کو بھی بارش کی قلت کی وجہ سے صحت کے مسائل درپیش ہو رہے ہیں۔ بارش کی کمی کی وجہ سے اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کے بھی اندیشے پائے جاتے ہیں۔ زرعی سرگرمیاں ٹھپ ہوکر رہ گئی ہیں۔ زرعی پیداوار متاثر ہونے کے اندیشے لاحق ہوگئے ہیں۔ حکومت بھی اس بات کو سمجھنے لگی ہے اور وہ کسانوںکو متبادل فصلوںپر توجہ دینے کا مشورہ دے رہی ہے ۔ ریاستی حکومت کو اس صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔ اس معاملے میں ماہرین سے مشاورت کرتے ہوئے ایسے اقدامات کئے جانے چاہئیں جن کے نتیجہ میں کسانوںاور عوام سبھی کو مشکلات کم سے کم درپیش ہوں۔ کسانوں اور عوام دونوں کو راحت پہونچانے کی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت ہے اور آئندہ وقتوں کی مشکلات کو بھی کم سے کم کرنے پر توجہ دی جانی چاہئے ۔