را م پنیانی
ہمارے وطن عزیز ہندوستان اگر دیکھا جائے تو فی الوقت ایک عجیب و غریب دور سے گذر رہا ہے۔ عوام کو مذہبی خطوط پر تقسیم کرنے والی طاقتیں کئی ایک طریقوں ہتھکنڈوں اور پروپگنڈوں کا استعمال کرکے اپنے ناپاک عزائم کی تکمیل کررہی ہیں۔ موجودہ دور میں ہم سب سیاسی پروپگنڈہ کے ذریعہ سماجی سوچ و فکر ، غذائی عادات و اطوار وغیرہ پر اثر انداز ہونے کے کئی میکانزم کا مشاہدہ کررہے ہیں یعنی تخریبی سیاست اور مذہبی خطوط پر عوام کو تقسیم کرنے کی سیاست کا خطرناک رحجان مسلسل فروغ پارہا ہے۔ اس میں سماجی سوچ و فکر اور غذائی عادات و اطوار کو نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یہ طاقتیں اس بات کا پرزور انداز میں پروپگنڈہ کرتی ہیں کہ چونکہ مسلمان غذاء میں گوشت کا زیادہ استعمال کرتے ہیں اس لئے وہ متشدد ہوتے ہیں یا تشدد بھرا مزاج رکھتے ہیں ۔
ہم یہاں آپ کو یہ بتانے کے خواہاں ہیں کہ کھانے پینے کی عادات و اطوار بھی تقسیم کی سیاست کو فروغ دینے والے اہم عوامل میں شامل ہوگئی ہیں۔ مقدس گائے اور گائے کا گوشت کھانے کا معاملہ بھی اس بحث میں شامل کیا گیاہے ۔ ہم نے ہندوستان میں ہجومی تشدد (Mob Lynching) کے رجحان کو پچھلے 12 برسوں میں تیزی سے فروغ پاتے ہوئے دیکھا ہے جس سے بنیادی طورپر مسلمان اور دلت زیادہ متاثر ہورہے ہیں ۔ ہاؤزنگ سوسائٹیوں میں بھی لوگوں کو اُن کے کھانے پینے یا غذائی عادات کی بنیاد پر الگ تھلگ کرنے کا رجحان پایا جاتا ہے کیونکہ بعض ہاؤزنگ سوسائٹیز فلیٹس فروخت کرنے کی اجازت دینے سے پہلے خریدار کے کھانے پینے کی عادات کا جائزہ لیتی ہے۔
حالیہ عرصہ کے دوران مغربی بنگال میں اس معاملہ کو ایک زیادہ پیچیدہ انداز میں اُجاگر کیا گیا ۔ باالفاظ دیگر صرف مغربی بنگال ہی نہیں بی جے پی کی زیراقتدار ریاستوں بالخصوص اُترپردیش ، دہلی وغیرہ میں بھی مسلمانوں کو کرایہ پر فلیٹس اُن کے کھانے کی عادات کو بہانہ بناکر نہیں دیئے جارہے ہیں ۔ اس طرح کئی علاقوں میں مسلمانوں کو مکانات یا فلیٹس بھی فروخت نہیں کئے جارہے ہیں اس کیلئے یہ بہانہ بنایا جارہاہے کہ مسلمان سبزی خور نہیں بلکہ گوشت خور ہوتے ہیں ( حالانکہ شراب نوشی تو تمام برائیوں کی جڑ ہوتی ہے ۔ شراب پینے کے بعد کوئی فرد ماں ، بیٹی ، بیوی ، بہن میں بھی تمیز نہیں کرسکتا وہ حالت نشہ میں بہت زیادہ متشدد ہوجاتا ہے تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نشہ کی لعنت میں مبتلا لوگوں کو کس بنیاد پر فلیٹ ؍ مکان کرایہ پر دیا جاتا ہے یا فروخت کیا جاتا ہے ) ۔
حد تو یہ ہیکہ معاشرہ کا ایک گوشہ اس بات کا بھی پروپگنڈہ کرنے میں مصروف ہے کہ پریوشن کے جین فیسٹول کے دوران نان ویج غذائی اشیاء کی فروخت پر پابندی عائد کردی جائے ۔ اس ضمن میں ہم آپ کو دھریندر کرشنا شاستری ( پرچی والے بابا جنھیں وزیراعظم نریندر مودی اپنا چھوٹا بھائی قرار دیتے ہیں ) نے ایک مشورہ دیااور اُن کے مشورہ پر لوگ ملے جلے ردعمل کا اظہار کررہے ہیں ۔ ویسے بھی مغربی بنگال میں فی الوقت درگا پوجا کا بہت بڑا تہوار منایا جارہاہے ۔ آپ سب اچھی طرح جانتے ہیں مغربی بنگال جیسی ریاست میں بی جے پی کو اقتدار حاصل ہوا ۔ مغربی بنگال میں بی جے پی بھگوان رام کا نام لیکر خود کو فروغ دینے میں کامیاب ہوئی ۔ ایسے میں بی جے پی اور بی جے پی کے حامی مغربی بنگال میں بھگوان رام سے متعلق تہواروں کو فروغ دے رہے ہیں جبکہ اس ریاست میں درگا پوجا بڑے پیمانہ پر منانے کی روایت ہے ۔
بی جے پی کو اچھی طرح اندازہ ہے کہ رام کے نام پر اُس نے جو یاترائیں نکالی ، جلوس نکالے ان کا شمالی ہند کی ریاستوں میں اسے بہت زیادہ فائدہ ہوا اور جس کے اثرات ہندوستان کے انتخابی منظرنامے پر مرتب ہوئے ۔ جب مغربی بنگال میں بی جے پی حکومت نے اپنی گرفت مضبوط کرلی تو درگا پوجا کا وقت آگیا ، اس طرح برسراقتدار جماعت نے باگیشوردھام کے شاستری کو مدعو کیا ۔ ہوڑہ کے لیلوا میں ہنومان کتھا سنانے کیلئے آئے تھے ۔ انھوں نے لوگوں کو مشورہ دیا کہ وہ پوجا کے دوران درگا کی مورتیوں سے گوشت کھانے والوں کو دور رکھیں ۔
آپ کو بتادیں کہ اس قسم کا مشورہ پہلے ہی آر ایس ایس کی ذیلی تنظیم وشواہندو پریشد بھی دے چکی تھی اس نے کسی حد تک بنگالی ہندوؤں میں ایک طوفان برپا کردیا جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جو خود کو ہندو قوم پرست قرار دیتے ہیں اور اُن لوگوں کی طرف سے بھی بیانات اور احتجاجی مظاہرے سامنے آئے ۔ ممتاز بنگالیوں نے کہا کہ شاستری کو اُنھیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ درگا پوجا کس طرح منائی جائے ، کیا کھایا جائے اور کس غذاؤں کے استعمال سے پرہیز کیا جائے۔
اس ردعمل کی وجہ یہ تھی کہ درگا پوجا کے دوران خاص طورپر مچھلی اور بکرے کا گوشت لازمی اشیاء سمجھے جاتے ہیں ۔ بہت سے ایسے لوگ بھی ہیں جنھوں نے اس بات پر زور دیا کہ مچھلی بنگالی ثقافت کا اہم حصہ ہے اور ہندو مذہب کے وسیع دائرے میں بھی بہت سے ایسے رجحانات موجود ہیں جہاں نان ویج کھانے مذہبی رسومات کا حصہ ہیں ۔ بہت سے لوگوں نے جن میں تریپورہ کے سابق گورنر تھتھا گا رائے سے لیکر صحافی اور Content Creators بھی شامل ہیں اس پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا ان میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو خود کو بنگالی ہندو قوم پرست قرار دیتے ہیں ۔
چیف منسٹر سویندو ادھیکاری جنھوں نے شاستری کا گرمجوشانہ استقبال کیا تھا ایک درگا مندر میں منعقدہ تقریب میں شرکت کی اور وہاں بڑے آرام سے مچھلی کا پرساد بھی کھایا لیکن بی جے پی کے کسی لیڈر نے درگا مندر میں مچھلی کھانے پر سویندو ادھیکاری کو تنقید کا نشانہ نہیں بنایا ۔ آپ کو بتادیں کہ بہت سارے لوگوں نے بنگالی ثقافت میں مچھلی کی بنیادی اہمیت کا حوالہ دیاہے ۔ ویسے بھی ہندوستان ہر معاملہ میں تنوع سے پُر ملک ہے چاہے وہ لباس ( ملبوسات ) ، کھانے ، زبان یا مذہب کیوں نہ ہو ۔ ہندوستان ایک ایسا ملک ہے جہاں مختلف ریاستوں یا علاقوں میں لوگوں کا لباس الگ ہوتا ہے ۔ اُن کی تہذیب الگ ہوتی ہے ۔ کھانے الگ ہوتے ہیں ، رہن سہن الگ ہوتا ہے ، زبان الگ ہوتی ہے ۔ غرض اُن کی اپنی ایک علحدہ شناخت ہوتی ہے اس کے باوجود یہ تمام مل کر متحدہ طورپر ہندوستانی تہذیب و ثقافت کی نمائندگی کرتے ہیں اور دنیا کو ہندوستان اور ہندوستانیوں کے کثرت میں وحدت کا پیام دیتے ہیں ۔
یہاں اس بات کاتذکرہ ضروری ہوگا کہ ہندوؤں میں بھی بہت سے فرقے ہیں اور کھانے پینے کی عادات و اطوار بھی مختلف پائی جاتی ہیں ۔ ہمارے یہاں کشمیری پنڈت بھی ہیں جن کے لئے گوشت ( مٹن ) کے پکوان اُن کی اپنی ثقافت کا ناقابل تنسیخ حصہ ہیں ۔ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ کھانے پینے کی عادات کئی ایک عوامل سے طئے ہوتی ہے جن میں جغرافیائی محل و قوع کا اہم کردار ہوتا ہے یا یہ ایک اہم عنصر ہوتا ہے ۔ مثال کے طورپر ساحلی علاقوں میں سمندری غذائیں لوگوں کی غذا کا اہم حصہ ہوتی ہیں ۔ دوسرے علاقوں کے لوگوں میں اس طرح کی غذائیں استعمال نہیں کی جاتی ۔
آپ کو بتادیں کہ حال ہی میں دارالحکومت نئی دہلی میں برکس سربراہ اجلاس کاانعقاد عمل میں لایا گیا ۔ اس کے اختتامی عشائیے میں صرف سبزیوں کی ڈشس بنائی گئیں اور مہمانوں کی تواضع کی گئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ چینی صدر ژی جن پنگ نے خواہ اُن کی اپنی وجوہات کچھ بھی ہوں اس ڈنر میں شرکت سے گریز کیا ۔ عالمی مہمانوں کے عشائیے میں صرف سبزی کی ڈشس سے تواضع کرنے پر اپوزیشن جماعتوں نے مودی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اس کے جواب میںمرکزی وزیر کرن رجیجو نے یہ کہتے ہوئے دفاع کیا کہ مہانوں نے غذائی مینو کو پسند کیا ۔ اس سے آپ کو حکومت کی سوچ و فکر کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا ۔
شائد حکومت یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ ہندوستان میں ویجیٹیرین یعنی سبزی خوروں کی زیادہ تعداد ہے ۔ دوسری جانب چیف منسٹر اُترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نے ریاست کے تمام اضلاع کے کھانوں کا ایک میاپ شائع کروایا جس میں آپ کو یہ جان کر حیرت کے ساتھ افسوس بھی ہوگا کہ لکھنو کے مشہور ٹنڈے کباب غائب تھے ۔ اس نقشہ میں صرف سبزی سے تیار کردہ ڈشس پیش کی گئیں جیسے کہ یوپی میں سب کے سب سبزی خور ہوں ۔