غزہ میں جنگ بندی و انسانی امداد کا مطالبہ

   

مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے دو قومی نظریہ کی بھی برکس نے حمات کی
نئی دہلی، 12 ستمبر (یو این آئی) برکس ممالک نے غزہ میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور انسانی امداد کی مکمل نیز بلا رکاوٹ رسائی کو یقینی بنانے کا مطالبہ کرکیہوئے مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے ضبط و تحمل سے کام لینے نیز صورتحال کو بگاڑنے والے اقدامات سے گریز کی اپیل کی ہے ۔انہوں نے گزشتہ سال اکتوبر کے جنگ بندی معاہدے کے باوجود غزہ میں تشدد پر تشویش کا اظہار کیا اور فلسطینیوں کو غزہ سے زبردستی نکالنے کی پالیسیوں کو روکنے کا اعادہ کیا۔ ہندوستان کی صدارت میں دو روزہ 18ویں برکس سربراہ اجلاس میں منظور دہلی اعلامیہ میں رکن ممالک نے مغرب ایشیا میں بڑھتی کشیدگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور تمام فریقوں سے انتہائی ضبط و تحمل کا مظاہرہ کرنے نیز صورتحال کو مزید بگاڑنے والی کارروائیوں سے بچنے کی اپیل کی۔ شہریوں اور شہری انفراسٹرکچر کی سکیورٹی کو یقینی بنانے نیز طویل مدتی امن، سکیورٹی اور استحکام کیلئے بات چیت اور سفارتکاری کوششیں بڑھانے کی بات بھی کہی گئی۔رکن ممالک نے شہری انفراسٹرکچر اور بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی والی پرامن ایٹمی تنصیبات پر حملوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلح تنازعہ کے دوران بھی ایٹمی سکیورٹی اور نگرانی کے قوانین پر عمل کیا جانا چاہیے ، تاکہ عوام اور ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے ۔ برکس ممالک نے اسرائیل-فلسطین تنازعہ کے مستقل حل کیلئے دو قومی نظریہ کی حمایت کو دہرایا۔ انہوں نے فلسطینیوں کے حقِ خودارادیت اور واپسی کے حق کو تسلیم کرنے کی ضرورت بتائی اور اقوامِ متحدہ میں فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت کی توثیق کی۔