غزہ پٹی سے متعلق نیتن یاہو کے بیان پر فلسطینی اتھارٹی برہم

غزہ سٹی ۔ 6 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو کی جانب سے دیے گئے غیر ذمے دارانہ بیان کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یکسر طور پر مسترد کر دیا ہے۔سرکاری خبر رساں ایجنسی ’وفا‘ کے مطابق فلسطینی صدارتی ترجمان نبیل ابو ردینہ کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو کا بیان اسرائیلی حکمت عملی کا ظاہر کرتا ہے۔ اس کا مقصد انقسام کو دوام بخشنا اور ’’غزہ کی چھوٹی ریاست‘‘ کی تیاری ہے، اس طرح بیت المقدس اور اس کے مقدس مقامات سے دستبرداری کو یقینی بنانا ہے۔اس سے قبل نیتن یاہو نے اسرائیلی اخبار’’سراء لہیوم‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کہا تھا کہ فلسطینی صدر محمود عباس کو غزہ پٹی واپس نہیں آنے دیا جائے گا۔ نیتن یاہو نے غزہ پٹی اور مغربی کنارے میں دو علاحدہ انتظامی وجود پر اپنی مسرت کا اظہار کیا۔انہوں نے باور کرایا کہ یہودی بستیوں کی تعمیر کا سلسلہ جاری رہے گا۔ اسرائیلی وزیراعظم نے اس امر کی تصدیق کی کہ مصر، قطر اور اقوام متحدہ کے توسط سے غزہ پٹی کے محاصرے میں نرمی کے اقدامات، حماس تنظیم کی جانب سے حقِ واپسی کی ریلیوں میں کمی لانے کے مقابل تھے۔نیتن یاہو نے مالی رقوم کی فراہمی کے لیے قطر کے ساتھ ایک معاہدے کی تصدیق بھی کی جس کا مقصد ’’غزہ پٹی کو مغربی کنارے سے علاحدہ رکھنا ہے‘‘۔ اسرائیلی وزیراعظم کے مطابق ’’اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ایک ایسی فلسطینی ریاست وجود میں آئے گی جو دونوں جانب سے ہمارا احاطہ کر لے گی، تو ایسا ہرگز نہیں ہوگا‘‘۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم نے سیاسی تصفیے کے اْس منصوبے کو قبول کرنے کے لیے تین شرائط رکھی ہیں جو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان شرائط میں تمام یہودی بستیوں کو باقی رکھنا، مغربی کنارے پر مکمل اسرائیلی کنٹرول اور اور بیت المقدش شہر کی عدم تقسیم شامل ہے۔اس کے مقابل حماس تنظیم کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ نے باور کرایا ہے کہ ان کی تنظیم کو حالات پرسکون رکھنے اور غزہ پٹی کا محاصرہ ختم کرنے کے حوالے سے اسرائیل کی جانب سے مثبت جواب موصول ہوا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں 83 فلسطینی زخمی
رملہ۔ 6 اپریل ۔(سیاست ڈاٹ کام) غزہ پٹی کی سرحد پر اسرائیلی فوج کے ساتھ ہونے والی تازہ جھڑپوں میں 83 فلسطینی شہری زخمی ہو گئے ہیں۔فلسطین کی وزارت صحت نے جمعہ کو ایک بیان جاری کر کے یہ اطلاع دی۔بیان کے مطابق اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف ) کے ساتھ تازہ جھڑپوں میں 83 فلسطینی شہری زخمی ہو گئے ۔یہ تمام 83 فلسطینی شہری گولی لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ مشرقی غزہ میں آنسو گیس کی وجہ سے بھی درجنوں لوگوں نے سانس لینے میں اور دم گھٹنے کی شکایت کی ہے ۔قابل غور ہے کہ 30 مارچ 2018 سے فلسطینی شہری ’دی گریٹ مارچ آف رٹرن‘ کے تحت بڑے پیمانے پر غزہ سرحد پر اسرائیلی مخالف مظاہروں کا انعقاد کیا جارہاہے ۔

TOPPOPULARRECENT