کسی کو قتل کیا تو تیر نہیں مارا کوئی
بنا دے قاتل ایسی تنگی جیون میں کس کام کی
رنگا ریڈی ضلع کے شاہ آباد میں دل دہلادینے والا واقعہ پیش آیا جہاںا یک ہی قاتل نے دو گھنٹوں کے وقفہ میں چھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ تلنگانہ کی تاریخ میںشائد یہ پہلا واقعہ کہا جاسکتا ہے جس میں ایک ہی شخص نے دو گھنٹوں کے وقت میں چھ افراد کو قتل کردیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ قاتل نے ایک نابالغ لڑکی کے ساتھ جنسی دست درازی کی تھی ۔ اس کو پوکسو کے مقدمہ میںجیل جانا پڑا تھا اور جیل سے رہائی کے بعد اس نے یہ بہیمانہ اور دل دہلادینے والی واردات انجام دی ہے ۔ اس نے نہ صرف متاثرہ لڑکی کے ساتھ دوبارہ جنسی دست درازی کی بلکہ اسے‘ اس کی ماں اور اس کی نانی کو کو قتل کردیا ۔ گھر واپس آیا اپنی بیوی اور دونوں بیٹوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا ۔ اس نے اپنے والدین کو فون کرکے قتل کا اعتراف کیا یہ انتہائی سنگین واردات ہے جو پولیس کی لاپرواہی پر بھی سوال پیدا کر رہی ہے ۔ متاثرہ خاندان کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ اس خاندان نے پولیس میںشکایت درج کروائی تھی کہ ملزم سے انہیں جان کا خطرہ لاحق ہے ۔ اس کے باوجود اس کی ضمانت کو روکنے کی موثر پیروی نہیں کی گئی اور نہ ہی متاثرہ خاندان کی سکیوریٹی اور سلامتی کیلئے کوئی اقدامات کئے گئے ۔ افراد خاندان نے شاہ آباد پولیس اسٹیشن کے روبرو احتجاج کرتے ہوئے تغافل برتنے والے پولیس عملہ کے خلاف بھی تادیبی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے ۔ اس واقعہ نے ساری ریاست کے عوام کو دہلا کر رکھ دیا ہے ۔ اس سے عوامی سلامتی پر سوال پیدا ہونے لگے ہیں اور یہ احساس ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عدالت میں موثر پیروی کرتے ہوئے قاتل کو سزائے موت دلائی جانی چاہئے ۔ ایک انسان کا قتل بھی بہیمانہ واردات ہوتی ہے اور یہاں تو چھ افراد کو قتل کردیا گیا اور یہ شاذ و نادر پیش آنے والی واردات ہی کہی جاسکتی ہے ۔ عدالت اس کا فیصلہ کرے گی اور عدالت میںاس تعلق سے پولیس کو موثر پیروی کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس طرح عام عام مقدمات میںپیروی کی جاتی ہے اس طرح کی پیروی اس کیس میںکافی نہیںہوگی ۔
اس کے علاوہ پوکسو ‘ قتل ‘ عصمت ریزی اورد یگر سنگین نوعیت کے جو جرائم پیش آ رہے ہیں ان کی تعداد میں حالیہ دنوں میںاضافہ ہونے لگا ہے اور کئی مقدمات میںملزمین کو ضمانت بھی مل رہی ہے ۔ پولیس کی جانب سے موثر پیروی میں تغافل کی شکایات عام ہیں اور اس کے نتیجہ میں مجرمین کے حوصلے بلند ہو رہے ہیں۔ وہ ضمانتوںپر باہر نکل کر اپنے جرائم کے دائرہ کو مزید وسعت دے رہے ہیں۔ سنگین معاملات میںپولیس کو مستعدی اور سرگرمی دکھانے کی ضرورت ہے ۔ مقررہ وقت میںتحقیقات مکمل کرتے ہوئے عدالتوں میںفردجرم پیش کرنی چاہئے تاکہ ایسے سنگین جرائم کا ارتکاب کرنے والوںکو ضمانت بھی نہ مل پائے اور جیل میںرہتے ہوئے ہی ان کے مقدمات کی سماعت مکمل کرکے عدالتوں سے فیصلے سنائے جاسکیں۔ جرائم کی روک تھام کے معاملے میں جب تک پولیس مستعدی نہیں دکھائے گی اور عدالتی کارروائیوںکوموثر ڈھنگ میںآگے بڑھانے کا کوئی میکانزم تیار نہیںکیا جائے گا اس وقت تک اسطرح کے جرائم پر قابو پانا آسان نہیں ہوگا ۔ جرائم کی شرح پر بھی قابو پانے میںمشکلات پیش آئیں گی ۔ پولیس پر سے عوام کا اعتماد اور بھروسہ متاثر ہو کر رہ جائیں گے جو پولیس کی شبیہہ کیلئے اچھی بات نہیں ہوسکتی ۔ پولیس کو خود اپنی شبیہہ کو بہتر بنانے کیلئے موثر اقدامات کرنے ہونگے ۔
آج جو واقعہ پیش آیا ہے وہ انتہائی سنگین نوعیت کا ہے اور اس معاملے میں پولیس کو پوری پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ کام کرتے ہوئے خاطی کو عدالت سے سزائے موت دلانے کی کوشش کرنی چاہئے ۔ ایک ساتھ چھ افراد کا قتل کوئی معمولی واردات نہیں ہے ۔ عدالت کو مطمئن کرتے ہوئے وہاں سے سزائے موت کا فیصلہ حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مقررہ وقت میں تحقیقات کو مکمل کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک معاملہ میں اگر پولیس ایسا کرنے میںکامیاب ہوتی ہے تو دوسرے افراد میں بھی خوف پیدا کیا جاسکتا ہے اور جرائم پر قابو پانے میں بھی اس کے ذریعہ مدد مل سکتی ہے ۔
مسئلہ E20 پٹرول کا
ملک بھر میں ان دنوں E20 پٹرول کا مسئلہ موضوع بنا ہوا ہے ۔ کئی گوشوں سے پٹرول میںایتھینال کی ملاوٹ کے مسئلہ پر تنقیدیں کی جار ہی ہیں۔ یہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس کے استعمال سے گاڑیوں کے انجن متاثر ہو رہے ہیں۔ گاڑیوں کے مائیلیج پر فرق پڑ رہا ہے ۔ عوام کو مشکلات پیش آنے لگی ۔ ان سب کے باوجود مرکزی حکومت اور خاص طور پر وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر نتن گڈکری اس کے استعمال پر بضد اور مصر نظر آ رہے ہیں ۔ کہا جا رہا ہے کہ نتن گڈکری کے ایک فرزند اس E20 کی تیاری کا کاروبار کرتے ہیں اور محض اپنے فرزند کی تجارت کو چار چاند لگانے گڈکری ملک بھر کے عوام کو نقصانات سے دوچار کرنے سے پیچھے ہٹنے تیار نہیں ہیں۔ اس معاملے میں حکومت کے دیگر ذمہ دار کچھ بھی کہنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ یہ مسئلہ ملک کے تقریبا ہر شہری سے تعلق رکھتا ہے اور ایسے میں وزیر اعظم نریندر مودی کو اس کا نوٹ لینے کی ضرورت ہے ۔ سارے مسئلہ کا جائزہ لیتے ہوئے اس پر عوامی شکوک پر غور کرنا چاہئے اور عوام کے مفاد کو پیش نظر رکھتے ہوئے کوئی فیصلہ کرنا چاہئے ۔ بی جے پی کے ایک دو قائدین یہ بیان دے رہے ہیں کہ ان کی گاڑی کا انجن متاثر نہیں ہوا ہے ۔ اس بنیاد پر عوام پر بھی E20 کا لزوم نہیںکیا جانا چاہئے ۔ ملک کے ہر شہری کی تشویش کو پیش نظر رکھتے ہوئے ان کی پریشانیوں کا جائزہ لیتے ہوئے فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے ۔ ایک وزیر اگر اپنی من مانی کر رہے ہیں تو ساری مرکزی حکومت بے بسی سے تماشہ نہیںدیکھ سکتی ۔ اس کو ذمہ دارانہ فیصلہ کرنا چاہئے ۔