ہائیکورٹ میں 11 ستمبر کے بعد مقدمہ کی سماعت کا امکان
حیدرآباد 3 ستمبر (سیاست نیوز) فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس معاملہ میں 11ستمبر کے بعد کسی بھی وقت مقدمہ کی سماعت ممکن ہے۔ ’سلکم چیروو‘میں تعمیر کی گئی عمارت کے سلسلہ میں داخل رٹ درخواست نمبر 11130/2026 میں تلنگانہ ہائی کورٹ نے اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل کو 31 اگسٹ سے قبل جواب داخل کرنے وقت فراہم کیا تھا ۔ فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کی تعمیرات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے داخل کی گئی درخواست کی سماعت کے دوران جسٹس این وی شرون کمار نے محکمہ بلدی نظم و نسق‘ محکمہ تعلیم ‘ محکمہ مال ‘ محکمہ آبپاشی‘ حیڈرا‘ اور مجلس بلدیہ عظیم ترحیدرآباد کو نوٹسیں جاری کرکے جواب داخل کرنے کی ہدایت دی تھی۔ گذشتہ سماعت کے دوران اڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل جناب عمران خان نے مختلف محکمہ جات سے جواب داخل کرنے ایک مرتبہ پھر وقت طلب کیا جس پر عدالت نے 31 اگسٹ تک کا قطعی وقت دے کر مقدمہ کی سماعت کا فیصلہ کیا تھا لیکن متعلقہ جج کے رخصت پر ہونے کے سبب اس مقدمہ کی سماعت نہیں ہوپائی ہے ۔ ذرائع کے مطابق 11 ستمبر کے بعد کسی بھی دن اس مقدمہ کی سماعت کا امکان ہے ۔بتایاجاتاہے کہ جسٹس این وی شرون کمار نے مقدمہ کی متعدد سماعتوں کے دوران مختلف محکمہ جات سے جواب داخل کرنے ایک سے زائد مرتبہ وقت فراہم کیا لیکن آئندہ سماعت کے دوران مزید وقت کا امکان ہے۔عدالت نے فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کے سروے اور تعمیراتی اجازت ناموں کی اجرائی اورمحکمہ تعلیم سے اجازت ناموں کی تفصیلا ت بھی طلب کی ہیں ۔ مختلف محکمہ جات جن کا فاطمہ اویسی کے جی تا پی جی کیمپس کی تعمیر ‘ تعلیمی اجازت ناموں و دیگر امور سے تعلق ہے ان کی بعض رپورٹس پیش کردی گئی ہیں اور عدالت نے محکمہ تعلیم کو مسلمہ حیثیت کی فراہمی کیلئے محصلہ دستاویزات پیش کرنے کی ہدایت دی ہے۔3