رپورٹ کے بغیر آنے پر سرزنش، 15 مئی کو ایس پی کو حاضر ہونے کی ہدایت، انسانی حقوق کمیشن کو متحرک کرنے کا فیصلہ
حیدرآباد۔/15مارچ، ( سیاست نیوز) قومی اقلیتی کمیشن نے میدک میں پولیس کی اذیت سے قدیر خاں نامی نوجوان کی موت پر پوسٹ مارٹم اور دیگر رپورٹس کی پیشکشی میں ناکامی پر میدک کے ڈی ایس پی کی سرزنش کی ہے۔ کمیشن کے صدرنشین اقبال سنگھ لال پورا اور کمیشن کی رکن شہزادی بیگم کے اجلاس پر ڈی ایس پی میدک پیش ہوئے۔ کمیشن کی رکن شہزادی بیگم نے 27 فروری کو میدک کا دورہ کرتے ہوئے قدیر خاں کے پسماندگان سے ملاقات کی تھی۔ انہوں نے متعلقہ ایس پی کو ہدایت دی تھی کہ قدیر خاں کی گرفتاری سے لے کر پوسٹ مارٹم تک کی تمام رپورٹس کمیشن کے روبرو پیش کی جائیں۔ پولیس کی جانب سے ڈی ایس پی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے لیکن ان کے ساتھ پوسٹ مارٹم رپورٹ نہیں تھی۔ ڈی ایس پی نے کمیشن کی جانب سے کئے گئے سوالات کا تشفی بخش جواب نہیں دیا۔ کمیشن کے صدرنشین اور ارکان نے ڈی ایس پی کی سرزنش کی اور کہا کہ درکار تفصیلات کے بغیر وہ حاضر کیوں ہوئے۔ کمیشن نے ضلع ایس پی کو 15 مئی کو پیش ہونے کی ہدایت دی اور قدیر خاں پر سرقہ کے الزام سے متعلق مقدمہ، پولیس اسٹیشن کا سی سی ٹی وی فوٹیج، ہاسپٹل سے رجوع کرنے کی تفصیلات اور پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی۔ کمیشن نے کہا کہ پولیس کو قدیر خاں کی موت سے متعلق تمام تر تفصیلات پیش کرنا چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیشن اس معاملہ میں چیف سکریٹری شانتی کماری کو فریق بنانے پر غور کررہا ہے۔ قومی کمیشن نے تلنگانہ کے ہوم سکریٹری سے اس بارے میں تفصیلی رپورٹ طلب کی ہے۔ کمیشن نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ واقعہ کو ایک ماہ گذرنے کے باوجود آج تک پوسٹ مارٹم رپورٹ کو زیر التواء بتایا جارہا ہے۔ دراصل پولیس پوسٹ مارٹم رپورٹ پیش کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ رکن کمیشن شہزادی بیگم نے کہا کہ قدیر خاں کی بیوہ اور تین بچوں کی پرورش کے سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کی جائے گی۔ کمیشن نے 50 لاکھ روپئے ایکس گریشیا، ڈبل بیڈ روم مکان کی فراہمی اور بیوہ کو سرکاری ملازمت فراہم کرنے کی تجویز پیش کی ہے۔ شہزادی بیگم نے کہا کہ قدیر خاں موت کا معاملہ سراسر پولیس اذیت رسانی کا ہے لہذا اقلیتی کمیشن ضرورت پڑنے پر انسانی حقوق کمیشن کو بھی معاملہ میں شامل کرے گا۔ کمیشن قدیر خاں معاملہ میں ہائی کورٹ کی کارروائی پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ر