قرآنِ کریم میں اعضائے مصطفیٰ کا تذکرہ

   

مولانا قاضی اسد ثنائی

تمام حمد و ثنا اس خالقِ ارض و سماء کیلئے ہے جس نے اپنے حسنِ تخلیق کا سب سے حسین شاہکار، اپنے محبوبِ مکرم، سید المرسلین، رحمۃ للعالمین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات میں ظاہر فرمایا اور بے شمار درود و سلام ہو اس ہستی پر جس کے سراپائے مبارک کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کا چلتا پھرتا نمونہ اور اپنی محبت کا آئینہ بنا دیا۔
قرآنِ مجید کا اسلوبِ بیان نہایت لطیف، نازک اور ادب سے بھرپور ہے۔ یہاں ایک باریک نکتہ ہے جس پر اہلِ دل نے بہت غور کیا ہے۔ جب عام انسانوں کا ذکر آتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کے اعمال، ان کے کردار اور ان کے انجام کا ذکر فرماتا ہے، لیکن جب اپنے حبیب پاک کی باری آتی ہے تو معاملہ بالکل بدل جاتا ہے۔ یہاں اللہ تعالیٰ نہ صرف آپ ؐ کے عمل کو بلکہ آپ ؐ کے اعضائے مبارکہ، آپ ؐ کے انداز، آپ ؐ کے اشاروں، آپ ؐ کی مسکراہٹ اور آپ ؐ کی اداؤں تک کو اپنی ابدی کتاب میں محفوظ فرما لیتا ہے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ محبوب کی ہر ادا محبوب ہوتی ہے۔
صوفیاء و عارفین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کے اعضاء کا ذکر کر کے ہمیں یہ بتایا ہے کہ وصل کا راستہ آپ ؐ کی محبت سے ہو کر گزرتا ہے۔ اللہ نے اپنے حبیب پاک کے تمام اعضاء کو اپنی محبت کا مظہر بنا دیا، پس جس نے آپ ؐ کے ایک عضو سے بھی محبت کی، اس نے گویا حق تعالیٰ سے محبت کی۔عاشقِ رسول شاعر حضرت علامہ نصیر احمد سراجی قادری چشتی ضیائی نے اعضائے مصطفیٰ ﷺ کو نہایت خوبصورت اور ایمان افروز انداز میں نظم کیا ہے :
چہرہ ہے کہ والشمس کی قندیل جلی ہے
گیسو ہیں کہ واللیل کی تفسیر لکھی ہے
ابرو ہیں کہ محرابِ حریمِ ازلی ہے
ماتھا ہے کہ انوار کا عنوان جلی ہے
آنکھوں میں جمالِ فتدلی کے نظارے
لبہائے مبارک سے رواں وحی کے دھارے
اللہ نے قرآن میں اپنے حبیب کے چہرے کا ذکر فرمایا تاکہ عاشقوں کو معلوم ہو جائے کہ رُخِ مصطفیٰ ہی قبلۂ حقیقی ہے۔
رخ مصطفیٰ ہے وہ آئینہ کہ اب ایسا دوسرا آئینہ
نہ کسی کی بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
نبی کریم ﷺ کا سینہ اللہ کے اسرار کا خزینہ ہے اور آپ ؐ کا قلب عرش سے بھی وسیع ہے کہ جس میں خود اللہ اپنی تجلیوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ اسی لیے علمائے کرام فرماتے ہیں کہ اللہ نے قرآن میں اپنے حبیب پاک کے ایک ایک عضو کا ذکر فرما کر اسے قیامت تک کے لیے باعثِ برکت و عظمت اور ذریعۂ نجات بنا دیا ہے۔
ذیل میں ہم اختصار کے ساتھ ان آیات کا تذکرہ کر رہے ہیں جن میں اعضائے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کا صراحتاً ذکر آیا ہے۔
۱۔ سینۂ مبارک – اَلَمْ نَشْرَحْ لَكَ صَدْرَكَ
ترجمہ: کیا ہم نے آپ ؐ کا سینہ کشادہ نہ فرما دیا۔ (سورۃ الشرح)
یہ وہ سینہ ہے جسے شقِ صدر کے ذریعے نور سے بھر دیا گیا۔ صوفیاء فرماتے ہیں یہ سینہ لوحِ محفوظ سے بھی زیادہ روشن ہے۔
۲۔ قلبِ اطہر – نَزَلَ بِهِ الرُّوْحُ الْاَمِيْنُ عَلٰى قَلْبِكَ
ترجمہ: اس قرآن کو روح الامین آپ ؐ کے قلب پر لے کر نازل ہوئے۔ (سورۃ الشعراء )قرآن آپ ﷺ کے قلب پر نازل ہوا۔ حضرت جنید بغدادی فرماتے ہیں: قلبِ محمدی ﷺ وہ آئینہ ہے جس میں حق کا جمال منعکس ہوتا ہے۔
۳۔ زبانِ مبارک – لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ … (سورۃ القیامہ) فَاِنَّمَا يَسَّرْنٰهُ بِلِسَانِكَ (سورۃ الدخان )
یہ زبان وہ ہے جس سے نکلنے والا ہر لفظ دین بن جاتا ہے۔ آپ ؐ کی زبان کی حرکت بھی وحی کے تابع تھی۔
۴۔ چہرۂ انور – قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِى السَّمَآءِ… فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ (سورۃ البقرہ )محبوب کا چہرہ پھیرنا بھی اللہ کو اتنا پسند ہے کہ اللہ نے اسے قرآن کا حصہ بنا دیا۔
عاشقوں نے کہا، رخِ مصطفیٰ ﷺہی تو اصل قرآن ہے۔
۵۔ پشتِ مبارک – وَوَضَعْنَا عَنْكَ وِزْرَكَ الَّذِیْ اَنْقَضَ ظَهْرَكَ (سورۃ الشرح ) اُمت کے غم کا بوجھ جو آپ ؐ کی پشت پر تھا، اللہ نے اپنے فضل سے ہلکا فرما دیا۔
۶۔ چشمِ مبارک – مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغٰی (سورۃ النجم )
معراج کی رات، قربِ الہی کے اس مقام پر جہاں عقل حیران ہے، آپ ؐ کی نگاہ مبارک نے ادب کا وہ مقام دکھایا جو کسی اور کو نصیب نہیں ہوا۔
۷۔ دستِ مبارک – وَمَا رَمَيْتَ اِذْ رَمَيْتَ وَلٰكِنَّ اللّٰهَ رَمٰى (سورۃ الانفال ) بدر میں آپ ؐ کے ہاتھ سے پھینکی گئی مٹی کو اللہ نے اپنا فعل قرار دیا۔جس ہستی کے اعضاء کا ذکر خود قرآن بن جائے، اس ہستی سے نسبت ہی انسان کی نجات کا سب سے بڑا سہارا ہے۔ آج اُمت کو ضرورت ہے کہ وہ صرف آپ ؐ کے اعمال و احکام کی پیروی پر ہی اکتفا نہ کرے بلکہ آپ ؐ کے سراپائے مبارک سے ایسی بے لوث محبت کرے کہ اس کا دل عشقِ رسول میں ڈوب جائے۔ یہی وہ محبت ہے جو انسان کو ادب سکھاتی ہے، یہی ادب اسے قربِ الہی تک پہنچاتاہے ۔اللہ تعالیٰ ہمیں سیرت و صورت دونوں میں اتباعِ مصطفیٰ ﷺنصیب فرمائے۔ آمین۔