حیدرآباد ۔ 9 نومبر (سیاست نیوز) تلنگانہ ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس، افراد، ویڈیو میکرس، میڈیا ایجنسیز اور عوام الناس کو غیرمجاز طور پر عدالتی کارروائیوں کے لائیو، اسٹریمٹ ویڈیوز شیئر کرنے کے خلاف انتباہ دیا۔ چیف جسٹس الوک ارادھے کی ہدایت کے بعد ہائیکورٹ کی ایڈمنسٹریٹیو ونگ نے عدالتی کارروائی کی ریکارڈنگس کے غیرقانونی استعمال سے متعلق ایک سرکیولر جاری کیا۔ لائیو اسٹریمنگ کیلئے عدالت کی پروسیڈنگس کیلئے رہنمایانہ خطوط اور قواعد کے مطابق کسی مجاز شخص کے علاوہ کوئی شخص یا ادارہ (بشمول پرنٹ اینڈ الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمس) لائیو۔ اسٹریمڈ پروسیڈنگس کو ریکارڈ، شیئر نہیں کرسکتے ہیں۔ اس قاعدہ کا اطلاق تمام مسیجنگ اپلی کیشنس پر بھی ہوگا۔ لائیو۔ اسٹریم کا کوئی غیرمجاز استعمال انڈیا کاپی رائیٹ ایکٹ 1957، انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ 2000 اور قانون کے دیگر قواعد کے تحت ایک جرم ہے اور مستوجب سزاء ہے۔ اس پرویژن کے برعکس کام کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔