Thursday , February 27 2020

لوک سبھامیں تین طلاق پر بل منظور‘ اپوزیشن کا حکومت پر بل کو تباہ کرنے کا الزام

مذکورہ جے ڈی(یو) کا موقف اور اپوزیشن کا واضح پوزیشن راجیہ سبھا میں بل کی منظوری کے لئے بی جے پی کو مشکلات کھڑا کریں گے

نئی دہلی۔پارلیمنٹ میں بنا قانونی جانچ کے مختلف بل پیش کرنے کے متعلق اپوزیشن کے شوروغل میں جمعرات کے روز تین طلاق پر لوک سبھا میں بل پاس کردیاگیا۔ مکورہ مسلم ویمن(پروٹکشن آف رائٹس ان میریج) بل2019جس کے تحت فوری طور سے تین طلاق کی ادائی کو جرم قراردیاگیا ہے اور جس پر تین مرتبہ ارڈیننس کی اجرائی بھی عمل میں ائی کو 303حمایتی ووٹ اور 82مخالف ووٹوں کے ساتھ پاس کردیاگیا۔

سابق میں بھی مذکورہ بل کو لوک سبھا میں پاس کردیاگیاتھا جو راجیہ سبھی میں اب زیر التوا ء ہے جہاں پر این ڈی اے کی اکثریت نہیں ہے۔جمعرات کے روز کانگریس نے مطالبہ کیا کہ بل کو اسٹانڈنگ کمیٹی کو روانہ کیاجائے۔

اب بھی اپوزیشن بل کو ”بل میں جائز منشاء کی کمی‘ جس کا مقصد سیاسی ہے اور مسلمانوں کو ہراسان کرنا اور بنیادی حقوق کو پامال کرنے والی“ اپنی بات پر قائم ہے۔ بی جے پی کی ساتھی جے ڈی(یو) نے بل پر کے خلاف سخت اعتراضات جتائے اور کہاکہ اس سے سماج میں بھروسہ کی کمی پیدا ہوگی۔

ووٹ سے قبل وہ ایوان سے چلے گی‘ ترنمول کانگریس نے بھی ایسا ہے۔پارٹی کو بل کی عدم حمایت کا اعلان کرتے ہوئے جے ڈی (یو)کے راجیو رنجن سنگھ نے لوک سبھا میں کہاکہ حکومت کو وہ تمام چیز یں انجام دینا چاہئے جو ”اس کمیونٹی کے لوگوں میں شعور بیدار کریں“۔

مذکورہ جے ڈی(یو) کا موقف اور اپوزیشن کا واضح پوزیشن راجیہ سبھا میں بل کی منظوری کے لئے بی جے پی کو مشکلات کھڑا کریں گے۔ بل کی مدافعت کرتے ہوئے یونین لاء منسٹر روی شنکر پرساد نے اشارہ کیا کہ تین طلاق کو سپریم کورٹ کی جانب سے سختی کے ساتھ غیر قانونی قراردئے جانے کے بعد بھی اس طرح کے کئی معاملا ت درج کئے گئے ہیں۔

انہوں نے کہاکہ اگست2017میں عدالتی احکامات کے باوجوداس طرح کے345واقعات رونما ہوئے ہیں۔انہوں نے اراکین سے استفسار کیاکہ وہ ”اس بل کو مذہب اور سیاست کے نظریہ سے نہ دیکھیں۔ یہ انسانیت کے ساتھ انصاف کا معاملہ ہے‘ خواتین کے اعزاز اور احترام کا معاملہ ہے“۔

انیسویں صدر کے اسکالر امیر علی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے پرسا نے کہاکہ پیغمبر اسلامؐ کو بھی تین طلاق کا عمل پسند نہیں ہے۔

کانگریس کے متعلق بات کرتے ہوئے پرساد نے کہاکہ 1955میں جب ہندومیریج ایکٹ میں ترمیم کی گئی تھی او رکم عمر مں شادی کو جرم قراردیاگیاتھا‘1961میں جب جہیز مانگنے کو جرم قراردیاگیاتھا‘ اور بلوغت اور گھریلوتشدت کو ائی پی سی کی دفعہ498اور 498اے کے تحت جرم قراردیا۔

یہ تمام کام کانگریس کی کامیاب حکومت نے انجام دیاہے۔ کیونکہ تمام اپوزیشن اس مسلئے پر متحد ہے‘ اسپیکر او م برلا نے بھروسہ دلایا کہ اگلے سیشن ممبرس کو متعارف کروانے سے بل کے مطالعہ کے دوروز کا وقت دیاجائے گا

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT