لڑکیوں کو میراث سے محروم کرناناجائز

   

پیغام شریعت کانفرنس سے مفتی قاسم مصباحی، طاہر بن حمدان اور دیگر کا خطاب
حیدرآباد 3 ؍ اکٹوبر (راست) ۔ دارالقضاء جامعۃالمؤمنات کے سلور جوبلی تقریب کے اختتامی اجلاس کے بضمن کل ہند پیغام شریعت کانفرنس جس کا مرکزی موضوع’’ مسلمانوں کے عائلی مسائل کا حل قرآن و حدیث کی روشنی میں‘‘ ہے۔ جو اردو مسکن، خلوت میں امیر شریعت مفتی محمد حسن الدین نقشبندی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔اس کانفرنس کو مخاطب کرتے ہوئے بیرون عالم مفتی محمد قاسم مصباحی اشرفی رضوی (دہلی)نے کہا کہ ایمان انسان کی زندگی کا وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں انسان حق و باطل، خیر و شر اور ہدایت و گمراہی کے درمیان امتیاز حاصل کرتا ہے جب یہی چراغ کمزور پڑ جاتا ہے تو انسان ظاہر ترقی، مادی آسائش اور فکری آزادی کے باوجود باطنی تاریکیوں کا شکار ہوجاتا ہے، سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم نے انسان کو اپنی مٹھی میں قید کر دیا ہے جس کی وجہ سے بے راہ روی، اور لا مذہبیت کا رجحان بڑھ رہا ہے ایسے ماحول میں فتنۂ ارتداد تیزی سے پھیل رہا ہے ۔ جب تمام لوگ اپنے اپنے ماتحت کی ذمہ داریوں کو نبھا لے گا تو دنیا سے برائیوں کا خاتمہ ہوگا اور زندگیوں میں انقلاب پیدا ہوگا۔ جناب طاہر بن حمدان (صدر نشین تلنگانہ اردو اکیڈمی) نے دارالقضاء کے ۲۵؍سال مکمل ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم کی بہت اہمیت ہے ہر حال میں ضروری ہے اس کے لئے بھی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے۔میر ذوالفقار علی (ایم ایل اے ) نے دارالقضاء کے جشن تأسیس پر بانی دارالقضاء مفتی محمد مستان علی قادری کو مبارک باد پیش کی ۔ ڈاکٹر مفتی سراج الرحمن فاروقی نقشبندی نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا جس کا مفہوم ہے میرے ساتھ والدین کا شکر ادا کرو، اللہ تعالی نے سب کو الگ الگ طبقوں میں پیدا فرمایا کسی کو کسی سے تقابل نہیں کرنا چاہئے کیونکہ یہی تقابل ہم کو برباد کر رہا ہے،دنیوی چیزوں میں تقابل نہ کرو بلکہ نیکیوں میں ایک دوسرے سے سبقت کرو، اولاد پرباپ کے مقابل میں ماں کے تین درجہ زیادہ حقوق ہیں۔مفتی موسی بن عبدالجلیل باحجاج نے کہا کہ ایک مرد بیک وقت چار نکاح کر سکتا ہے اور متعدد نکاح اسی وقت کر سکتے ہیں جبکہ ان کے درمیان مساوات کر سکتے ہوں، اگر استطاعت نہ ہو تو ایک پر ہی اکتفاء کریں،عورتیں ہی گھریلو معاملات کو چلاتی ہیں اگر وہ غیر شرعی رسومات کا بائیکاٹ کریں تو معاشرہ سے خرافات کا خاتمہ ہوسکتا ہے، نکاح اور ولیمہ ایک ہی دن کیا جا سکتا ہے ولیمہ کے لئے شب زفاف کا ہونا لازم نہیں ہے بلکہ خلوت صحیحہ ہوجائے تو کافی ہے۔ مفتیہ رضوانہ زرین نے کہا کہ اللہ کے رسول ﷺ جہاں عورتوں پر بے پناہ رحم و کرم فرمائے انہیں جملہ حقوق دلائے وہیں میراث کے متعلق بھی الاقرب فالاقرب کے تحت عورتوں کومیراث کا حصہ دار بنایا، لیکن آج پھر سے وہی دور جاہلی کی بات دہرائی جا رہی ہے، لڑکیوں کو نکاح کے موقع پر جو جہیز یا جوڑے کی رقم دی جا رہی ہے تو وہیں انہیں حقیقی میراث سے محروم کردیا جا رہا ہے جبکہ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں واضح طور پر جہاں مردوں کے حصے مقرر فرمائے ہیں وہیں عورتوں کے بھی حصے مقرر فرمائے ہیں۔ مفتیہ ناظمہ عزیز مؤمناتی نے کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے حضور تاجدار مدینہ راحت قلب و سینہ ﷺ کا ارشاد نقل فرمایا کہ نکاح میری سنت ہے پس جو اس پر عمل نہیں کرتا اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں، حضور ﷺ نے فرمایا نکاح کو آسان بناؤ کہ زنا مشکل ہوجائے، عصر حاضر میں ضرورت ھیکہ نکاح ا اور ولیمہ کی تقاریب کو سادگی سے انجام دیا جائے ۔مفتیہ سیدہ عاتکہ طیبہ نے کہا کہ اللہ تعالی شوہروں کو تاکید فرماتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ خیر کے ساتھ زندگی بسر کرو۔مفتیہ نسرین افتخار نے کہا کہ اسلامی تعلیمات اور معاشرتی روایات کے مطابق شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے شوہر کی اطاعت کرنا بیوی پر فرض ہے۔ اس جلسہ میںمولانا عرفان اللہ شاہ نوری، مفتی محمد عبدالواسع احمد صوفی، ڈاکٹر مفتی ایس ایم سراج الدین، عبدالغفور پرویز، مفتی محمد صابر پاشاہ قادری، الحاج عبدالرزاق راشد میمن،جناب عطاء اللہ خان، جناب شیخ اسماعیل ، مفتی محمد غوث عادل، مفتی غلام ربانی، مفتی عمران، مفتی سید مظہر الدین، مفتی ریاض اشرفی نے بطور مہمان شرکت کی۔جلسہ کا آغاز قاریہ ماجونی کی قرأت اور عالمہ علشبہ کی نعت شریف سے ہوا۔ طالبات نے نظم پیش کی۔ جناب سید شاہ نور الحق قادری نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ جناب محمد معیزبابو چودھری نے رپورٹ پیش کی۔