کئی اہم شہروں میں مارچ نکالے گئے ۔ بیشتر مظاہرے پرامن ۔ 100 افراد حراست میں۔ البانیہ اور میڈریڈ میں بھی عوام سڑکوں پر اترے
پیرس 24 اکٹوبر ( ایجنسیز ) فرانس میں ہفتے کو ایک بار پھر کئی شہروں میں حکومت مخالف احتجاج کیا گیا اور سرکاری اعداد و شمار کے بموجب ایک لاکھ سے زائد افراد سڑکوں پر اتر آئے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ پیرس کے علاوہ کئی اور شہروں میں بھی ہزاروں افراد احتجاج میں شامل ہوئے اور انہوں نے اہم شاہراہوں کو بند کردیا تھا ۔ پتہ چلا ہے کہ کچھ مقامات پر مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپوں کی بھی اطلاع ہے تاہم بیشتر مقامات پر احتجاج پرامن ہی رہا ۔ جہاں ایک لاکھ سے زائد افراد احتجاج میں شامل ہوئے وہیں ہزاروں کی تعداد میں پولیس اور سکیوریٹی اہلکاروں کو بھی متعین کردیا گیا تھا ۔ مارسیلے ‘ لیان اور دیگر شہروں میں لوگ نعرے لگاتے ہوئے اور گیت گاتے ہوئے احتجاج میں شامل ہوئے ۔ سڑک کی دونوں جانب پولیس کو متعین کیا گیا تھا ۔ ٹئولوسے اور لیلے شہر میں بھی مظاہرے ہوئے ۔ یہاں بھی ہزاروں افراد اس میں شامل ہوئے ۔ حکام کی جانب سے مختلف شہروں میں پابندیاں بھی عائد کی گئی تھیں اور آخری وقتوں تک قانونی اجازت حاصل کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ مقامی افراد کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے احتجاجی مظاہرہ کی اجازت دی جائے یا نہ دی جائے ہم ہائی اسکول طلباء کی اس تحریک کی تائید کرتے ہیں اور ہم انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے ۔ ہم بھی بچوں کے والدین ہیں اور ہم بھی ایک موقع پر نوجوان تھے اور ہم آج ورکرس بھی ہیں۔ ایسے میں مہنگائی اور دیگر مسائل سے ہم کو بھی پریشانی لاحق ہے ۔ نئیس شہر میں پولیس نے کہا کہ سینکڑوں مظاہرین کو منتشر کرنے کا حکم دیدیا گیا ۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نونیز نے قبل ازیں کہا کہ ملک بھر میں مظاہرین کی تعداد 35 ہزار کے آس پاس تھی ۔ تاہم بعد میں کہا گیا ہے کہ ایک لاکھ سے زائد افراد احتجاجی مظاہروں میں مختلف شہروں میں شریک ہوئے ہیں۔ جملہ 136 مقامات پر پولیس کو گذشتہ ہفتے کارروائی کرنی پڑی تھی ۔ کہا گیا ہے کہ آج کے مظاہروں کے دوران جملہ 100 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ یوروپ کے دوسرے شہروں میں بھی احتجاج کیا گیا ۔ البانیہ میں دو ہزار افراد سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اس کے علاوہ اسپین کے شہر میڈریڈ میں بھی ہزاروں افراد سڑکوں پر اتر آئے اور انہوں نے احتجاجی مارچ میں حصہ لیا ۔ فرانس میں کشیدگی اور حالات کو دیکھتے ہوئے صدر فرانس ایمانیول میکران نے طلباء قائدین کے ساتھ کل دو پہر میں ملاقات کی تھی ۔ انہوں نے طلباء سے ان کے مطالبات کے سلسلہ میں بات چیت کی اور حکومت کے موقف سے واقف بھی کروایا تھا۔ تاہم اس ملاقات کے باوجود آج ایک بار پھر فرانس کے کئی شہروں میں احتجاج کیلئے طلباء اور دیگر شہری سڑکوں پر اتر آئے تھے ۔ 20 طلباء کے ساتھ صدر فرانس کی یہ ملاقات ڈھائی گھنٹوں کی رہی تھی تاہم اس میں کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا ۔ کہا گیا ہے کہ فرانس میں کچھ مقامات پر معمولی جھڑپیں ہوئی تھیں تاہم بحیثیت مجموعی بیشتر مظاہرے پرامن رہے اور پولیس نے طاقت کا استعمال نہیں کیا ۔