موبائیل فون سے مسعود اظہر کی تقاریر کی کلپس کی دستیابی کا دعوی
سوشیل میڈیا مواد کی جانچ ۔ گذشتہ ماہ وزیر اعظم مودی کے خلاف پوسٹ کیا تھا
ممبئی 24 اکتوبر(ایجنسیز) مہاراشٹر اے ٹی ایس نے ممبئی کے مالیم علاقہ سے 33 سالہ شخص کو ممنوعہ تنظیم جیش محمد سے مبینہ روابط کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔ تفتیشی حکام کے مطابق ملزم کے موبائل فون سے تنظیم کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی تقاریر کے آڈیو کلپس، قابلِ اعتراض اسکرین شاٹس اور سوشل میڈیا سرگرمیوں سے متعلق مواد ملنے کا دعویٰ کیا گیا ۔ ایجنسی اب ملزم کے ڈیجیٹل رابطوں اور ممکنہ بیرونی روابط کی جانچ کر رہی ہے۔ گرفتار شخص کی شناخت محمد حسن ابو سرمد اختر کے طور پر کی گئی ۔ اسے مہاراشٹرا اے ٹی ایس کی کالہ چوکی یونٹ نے خفیہ اطلاع پر ماہم میٹرو اسٹیشن کے قریب سے گرفتار کیا۔ حکام کے مطابق ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر مبینہ ایسی پوسٹس و پیغامات موجود تھے جنہیں مذہبی منافرت پھیلانے اور انتہا پسند نظریات کی تشہیر سے متعلق قرار دیا گیا ہے۔اے ٹی ایس کے مطابق ملزم انسٹاگرام اور ایکس سمیت مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر سرگرم تھا۔ تفتیش کاروں نے اس کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر 8 ستمبر کی ایک پوسٹ کا بھی جائزہ لیا، جس میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ممبئی دورہ کے دوران سکیورٹی میں مبینہ کوتاہی سے متعلق رپورٹ کا حوالہ دیا گیا تھا۔ ایجنسی کا الزام ہے کہ اس پوسٹ پر تبصرے میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے ساتھ پیش آئے واقعہ جیسا ہی واقعہ مودی کے ساتھ ہونے کی بات کہی گئی تھی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ملزم کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے ایسی پوسٹس بھی ملی ہیں جن میں مبینہ طور پر جہاد کی حمایت اور بعض افراد کو ہتھیار اٹھانے کی ترغیب دی گئی تھی۔ اے ٹی ایس اس مواد کی نوعیت، اشاعت کے مقصد اور ملزم کے ممکنہ روابط کی جانچ کر رہی ہے۔ ان الزامات کی آزادانہ تصدیق اور عدالتی تعین ہونا باقی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم ریاپیڈو رائیڈر کے طور پر کام کرتا تھا اور عطر فروخت بھی کرتا تھا۔ اے ٹی ایس نے اس کا موبائل فون ضبط کر لیا ، جس کا تکنیکی معائنہ کیا جا رہا ہے۔ تفتیشی ایجنسی کے مطابق فون سے قابلِ اعتراض مواد ؤ اسکرین شاٹس برآمد ہوئے ۔ حکام جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ملزم کا رابطہ پاکستانی انٹیلی جنس آپریٹوز سے تھا یا نہیں۔ اے ٹی ایس کے مطابق ملزم ایک ٹیلی گرام گروپ چلاتا تھا، جہاں یکم جون 2026 کو جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کی تقاریر کے آڈیو کلپس مبینہ طور پر اپ لوڈ کیے گئے تھے۔