جامعہ ملیہ اسلامیہ میں احتجاج روکنے کی کوشش ‘طلباء و گارڈز میں ٹکراؤ

,

   

یونین بحال کرنے طلباء کا مطالبہ ۔ بھوک ہڑتال کے شامیانے نکالنے گارڈز کی کوشش پر بدامنی
کلاسیس آن لائین منتقل ۔کانگریس ارکان پارلیمنٹ عمران مسعود اور عمران پرتاپ گڑھی پر حالات بگاڑنے انتظامیہ کا الزام

نئی دہلی 24 اکٹوبر ( ایجنسیز ) دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلباء کا گارڈز کے ساتھ ٹکراؤ اور تصادم ہوگیا جس کے نتیجہ میں انتظامیہ کی جانب سے کلاسیس کو آن لائین کردیا گیا ہے ۔ کہا گیا ہے کہ طلباء کی جانب سے کیمپس میں اسٹوڈنٹس یونین کو دوبارہ متعارف کروانے کا مطالبہ کرتے ہوئے احتجاج کیا جا رہا تھا اور اس دوران ان کا سکیوریٹی گارڈز کے ساتھ ٹکراؤ ہوگیا ۔ کہا گیا ہے کہ گارڈز کی جانب سے احتجاجی طلباء کی نگرانی کی جا رہی تھی اور کیمپس میں احتجاج کیلئے لگائے گئے شامیانے نکالنے کی کوشش کی گئی جس کے بعد بدامنی پیدا ہوگئی ۔ یہاں اسٹوڈنٹس یونین کو بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کچھ طلباء کی جانب سے بھوک ہڑتال بھی شروع کردی گئی ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ یونیورسٹی کے رجسٹرار کی جانب سے الزام عائد کیا گیا ہے کہ کانگریس کے دو قائدین نے کل کیمپس کا دورہ کیا تھا اور انہوں نے طلباء کو بھڑکایا ہے اور سیاسی مفادات کی تکمیل کیلئے حالات بگاڑٔے کی کوشش کی گئی ہے ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کو 2006 میں برخواست کردیا گیا تھا کیونکہ وہاں تشدد پھوٹ پڑا تھا ۔ اب طلباء کا مطالبہ ہے کہ اس یونین کو بحال کیا جائے ۔ مرکزی وزیر تعلیم پرہلاد جوشی کو 21 اکٹوبر کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے سی پی آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ جان بریٹاس نے تقریبا دو دہوں سے منتخبہ طلباء تنظیم نہ ہونے کا حوالہ دیا تھا ۔ انہوں نے دستوری گنجائش کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اظہار خیال اور وابستگی کی آزادی ہے ۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کی رہنماء خطوط بھی ہیں جن کے تحت لنگڈوہ کمیٹی کی سفارشات مںی بھی طلباء انتخابات کروانے کی وکالت کی گئی تھی ۔ جامعہ کے رجسٹرار مہتاب عالم رضوی نے الزام عائد کیا کہ کل کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ عمران پرتاپ گڑھی اور عمران مسعود یونیورسٹی کیمپس میں دیوار کود کر داخل ہوئے تھے اور انہوں نے کیمپس کے پرامن ماحول کو متاثر کیا ہے ۔ اس کے بعد آج جامعہ میں طلباء اور گارڈز میں ٹکراؤ ہوا ہے ۔ مسٹر رضوی نے بتایا کہ دہلی پولیس میں اس تعلق سے شکایت درج کروادی گئی ہے ۔ گارڈز کی جانب سے کی گئی کارروائی پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عمران پرتاپ گڑھی نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ در اصل جامعہ کے بہادر طلباء کی تحریک سے خوفزدہ ہے اور اسے طلباء اتحاد کے آگے شکست ہو رہی ہے ۔ یونیورسٹی انتظامیہ پر انہوں نے زبردستی طلباء کو ہٹانے کی کوشش کا الزام عائد کیا جو بھوک ہڑتال کر رہے ہیں۔