مالیگاؤں کیس میں 19 سال بعد الزامات ختم ، کوئی سزا نہیں ہوئی

,

   

ممبئی 22 اپریل:(ایجنسیز)2006 کے مالیگاؤں بم دھماکہ کیس میں بمبئی ہائی کورٹ نے تمام ملزمین کے خلاف الزامات ختم کر دیئے ہیں۔جہاں بمبئی ہائی کورٹ نے آج تمام چار ملزمین کے خلاف الزامات کو ختم کر دیا۔ اس فیصلے کے ساتھ تقریباً دو دہائیوں پر محیط قانونی کارروائی کے باوجود کسی بھی ملزم کو سزا نہیں مل سکی۔عدالت کی بنچ، جس کی سربراہی چیف جسٹس شری چندرشیکھر اور جسٹس شیام چاندک کر رہے تھے، نے خصوصی عدالت کے ستمبر 2025 کے اس حکم کو کالعدم قرار دیا جس میں ملزمین پر فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ یہ فیصلہ ملزمین کی جانب سے دائر اپیلوں پر سنایا گیا۔سماعت کے دوران دفاعی وکلاء نے مؤقف اختیار کیا کہ این آئی اے کے پاس کوئی مضبوط ثبوت موجود نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ نہ کوئی چشم دید گواہ تھا اور نہ ہی ایسا کوئی ثبوت ملا جو ملزمین کو جرم سے جوڑ سکے۔ عدالت میں یہ بھی بتایا گیا کہ شناختی پریڈ واقعہ کے چھ سال بعد کرائی گئی، جس سے گواہوں کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔مدھیہ پردیش سے حاصل کیے گئے مٹی کے نمونوں میں آر ڈی ایکس کے کوئی آثار نہیں ملے، جس سے تفتیشی دعوؤں پر مزید شبہ پیدا ہوا۔یہ دھماکہ 8 ستمبر 2006 کو مہاراشٹرا کے ضلع ناسک کے شہر مالیگاؤں میں ایک قبرستان کے قریب پیش آیا تھا، جس میں 37 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ ابتدائی طور پر مہاراشٹرا اینٹی ٹیررزم اسکواڈ نے نو مسلم نوجوانوں کو گرفتار کیا تھا، جنہیں 2012 میں ضمانت مل گئی۔I/H

امریکی خاتون کیساتھ ہوم اسٹے میں جنسی زیادتی، دو ملزمین گرفتار
بنگلورو 22 اپریل:(ایجنسیز)کرناٹک کے ضلع کوڈاگو کے کْٹا گاؤں میں ایک امریکی خاتون کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی کا سنگین معاملہ سامنے آیا ہے، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دو افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون ایک ہوم اسٹے میں قیام پذیر تھی جہاں اس کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ شکایت کے مطابق مرکزی ملزم وریجیش کمار، جو جھارکھنڈ کا رہائشی اور ہوم اسٹے کا ملازم تھا، نے مبینہ طور پر خاتون کے ساتھ کمرے کے اندر زیادتی کی۔حکام نے بتایا کہ ہوم اسٹے کے مالک کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ I/H
اس پر الزام ہے کہ اس نے واقعے کو دبانے کی کوشش کی اور متاثرہ خاتون کو حکام سے رابطہ کرنے میں مدد فراہم نہیں کی۔ شکایت میں کہا گیا ہے کہ مالک نے تین دن تک وائی فائی سروس بند رکھی، جس کے باعث خاتون کسی سے رابطہ نہ کر سکی۔اطلاعات کے مطابق جب خاتون کو دوبارہ رابطے کی سہولت ملی تو وہ وہاں سے نکل گئی اور بعد میں اس نے امریکی سفارت خانے سے رابطہ کیا۔ سفارت خانے کی جانب سے میسورو پولیس کو ای میل بھیجی گئی، جس کے بعد مقدمہ درج کیا گیا۔پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے دونوں ملزمین کو حراست میں لے لیا اور انہیں عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کیس میں زیادتی کے ساتھ ساتھ جرم چھپانے کی دفعات بھی شامل کی گئی ہیں اور مزید تفتیش جاری ہے۔ریاست کے وزیر داخلہ پرمیشورا نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے واقعات سیاحوں کی حفاظت کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کرتے ہیں اور حکومت اس سلسلے میں پہلے ہی ہوم اسٹے آپریٹرز کے لیے رہنما اصول جاری کر چکی ہے۔حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ متاثرہ خاتون محفوظ ہے اور اسے ہر ممکن مدد فراہم کی جا رہی ہے جبکہ واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔